شوہر نے بڑے مؤدبانہ انداز میں گھر آئی مہمان
خاتون کے لئے کار کا اگلا دروازہ کھولا۔
خاتون شاہانہ انداز میں بیٹھتے ہوئے مسکرائیں۔
بیوی کو ناگوار گزرا تاہم صبر کا گھونٹ پیتے ہوئے پچھلی سیٹ پر جا بیٹھی۔
شوہر نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرائیونگ
سیٹ سنبھال لی۔
سفر شروع ہوا اور وہ خاتون کے ساتھ خوش گپیوں میں
مصروف ہو گیا۔
کچھ ہی دیر میں شہر کی مصروف شاہراہ پر گاڑی
بدترین ٹریفک جام میں پھنس گئی۔
شوہر نے مہمان خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا چلیں
اس ٹریفک جام کے بہانے آپ کی کمپنی کچھ دیر اور اینجوائے کرنے کا موقع مل جائے گا۔
خاتون نے چنچل انداز میں قہقہہ لگایا۔ بیوی نے
جل کر ہونٹ بھینچ لئیے۔ احساس کمتری روح میں اترتا محسوس ہوا اور اسے اپنا وجود بے
وقعت (LESS
IMPORTANT) لگنے لگا۔ اچانک مہمان خاتون اپنے فون کی گھنٹی
بجنے پہ ہڑبڑا گئیں۔
کچھ لمحے مؤدبانہ انداز میں بات کرنے کے بعد
کہنے لگیں میرے شوہر ایک مشکل میں پھنس گئے ہیں مجھے ابھی پہنچنا ہو گا۔مجھے یہیں
اترنا چاہئے۔
یہ کہہ کر وہ کوئی جواب سنے بغیر
گاڑی سے اترنے کی کوشش کرنے لگیں۔
ٹریفک اتنا شدید جام تھا کہ گاڑی سے گاڑی جڑی
تھی بمشکل وہ تھوڑا سا دروازہ کھول کر اتر پائیں اور گاڑیوں کے آگے پیچھے سے گزرتی
ہوئی نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔
بیوی چاہتے ہوئے بھی پچھلی سیٹ سے آگے منتقل نہ
ہو سکی۔
ٹریفک کا عالم یہ تھا کہ کچھ منٹوں بعد گاڑیاں
کچھوے کی طرح رینگتیں اور پھر رک جاتیں۔ بیوی
نے اپنے بال کھولے آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ لگایا اور اپنا سر آرام طلب انداز میں سیٹ
پر ٹکا دیا۔
ٹریفک میں پھنسے ارد گرد کے کچھ لوگ بیوی کو بیگم
صاحبہ اور شوہر کو ڈرائیور کی نظر سے دیکھنے لگے۔
شوہر نے جب یہ محسوس کیا اور بیک ویو مرر میں بیوی
کو دیکھا تو جل کر اپنے ہونٹ بھینچ لئیے۔
احساس کمتری روح میں
اترتامحسوس ہوا اور اسے اپنا وجود بے وقعت یعنی لیس امپارٹنٹ لگنے لگا
(فرح کی ڈائری)