مگر مچھوں کے تالاب میں گنجائش سے زیادہ مگرمچھ


مگر مچھوں کے تالاب میں گنجائش سے زیادہ مگرمچھ

کراچی ، نزاہت خان

کراچی میں منگھوپیر درگاہ کے اطراف موجود مگر مچھوں کے تالاب میں گنجائش سے زیادہ مگرمچھ پل رہے ہیں۔مگر مچھوں  کی افزائش کو روکنے کے لیے اکثر اوقات ان کے انڈوں کو ضائع بھی کرنا پڑتا ہے۔ تالاب کے احاطے کو وسیع کیا جائے تو مسائل میں کمی آسکتی ہے۔


شہریوں کو مزارات اور درگاہوں پر جانے کی اجازت  ملنے کے بعد منگھوپیر میں تالاب کے مگر مچھوں کا بھلا ہوگیا تھا۔ کراچی میں کورونا کیسز میں اضافے کے بعد ایک بار پھر مزارات کو بند کردیا گیا ہے۔

 پابندیوں کے بعد ایک بار پھر مگر مچھوں کے لیے خوراک کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔۔


صوبائی محکمہ اوقاف نے مگرمچھوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری علاقے کے مقامی خلیفہ سجاد کو سونپی ہوئی ہے۔

محکمہ اوقاف پہلے ہر دو روز بعد مگرمچھوں کے لیے دو من گوشت فراہم کرتا تھا ،، جو ان دنوں فراہم نہیں کیا جارہا۔ اب زائرین کی جانب سے لایا گیا یا پھر چندہ کرکے خریدا گیا گوشت ہی مگرمچھوں کی خوراک کا واحد ذریعہ ہے۔

خلیفہ سجاد نگراں  منگھو پیر درگاہ کا کہناہےکہ زائرین کے آنےسےیہ ہوتاتھاکہ مسلسل انکوملتارہتاتھادس منٹ پندرہ منٹ بعد۔۔۔زائرین آرہےہیں گوشت دےرہےہیں ۔۔۔کلوسواکلودس کلویاپندرہ کلومسلسل چلنےکی وجہ سےہمیں پریشانی کاسامنانہیں کرناپڑتاتھا.


منگھوپیر میں مگرمچھوں کے تالاب کا رقبہ تقریبا 8 سو گز ہے۔ سب سے بڑے مگر مچھ کا نام مور صواب ہے۔ جس کی عمر لگ بھگ سو سال ہے۔ مگرمچھوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس وقت تالاب میں دو سو سے زائد مگر مچھ موجود ہیں۔۔

تالاب میں گنجائش کم ہونے کی وجہ سے مگر مچھوں کے   انڈے تلف کرنے کی نوبت آچکی ہے۔


ساجد علی  سماجی کارکن نے کہاکہ کئی بار ہم نےگزارش کی ہےکہ محکمہ اوقات سےحکومت سندھ سےکہ اس میں توسیع کی جائےاورجگہ بڑھائی جائے۔۔۔پتہ نہیں کیاوجہ ہےکہ یہ لوگ اس پرتوجہ نہیں دیتےہیں۔۔۔حالانکہ منگھوپیرکی ایک ثقافت میں اس  کاشمارہوتاہے۔۔۔جس طرح منگھوپیرکاگرم چشمہ ہے اس ہی طرح منگھوپیرکےمگرمچھ بھی دنیامیں جاننےجاتےہیں۔


طویل عرصے سے تبدیل نا ہونے کے باعث تالاب کا پانی بھی گندا اور بدبو دار ہوچکا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق مگرمچھ خوارک کے بغیر بھی کئی دن تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ تاہم سازگار ماحول کی فراہمی نا ہونے کی وجہ سے مگر مچھوں کے زخمی ہونے کا خدشہ بڑھتا جارہا ہے۔