بارشوں میں ہونیوالے جانی و مالی نقصانات کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے صوبے کے تمام اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے
اب تک بارشوں سے 111 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں
بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 6077 مکمل اور 10 ہزار سے زائد گھر جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کے بیان کیے گئے اعداد شمار کے مطابق 16 ڈیمز میں سے کچھ کو زیادہ اور کچھ کو کم نقصان ہوا،
بارشوں اور سیلاب سے 2 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی پر فصلوں اور باغات کو نقصان ہوا بلوچستان میں حالیہ بارشوں کے دوران 2400 سولر پینلز کو شدید نقصان پہنچا،
رواں مون سون سیزن کے دوران 500 فیصد سے زیادہ بارشیں ہوئی ہیں سیلابی صورتِ حال سے10 اضلاع زیادہ متاثرہ ہوئے ہیں،
کیچ ندی میں حکومت نے مشکل صورتِ حال کو کنٹرول کیا ہے
بلوچستان میں حالیہ بارشوں سے 111 اموات ہوئی ہیں
حکومت نے بارشوں کے امکانات کے بعد سے متعلقہ محکوں میں ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کی ہیں،
بلوچستان میں
اب تک سیلابی پانی میں گھرے 17000 افراد کو ریسکیو کیا گیا جبکہ 2000 مزید افراد
کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے
صوبے میں ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں پاک فوج، ایف سی اور سول ادارے کام کر رہے ہیں،
صوبے میں بارشوں اور سیلابی
ریلوں سے 650 کلو میٹر سڑکیں متاثر ہوئیں ہیں
جبکہ کراچی شاہراہ ہیوی ٹریفک
کے لیے بند ہے حکومت نے الرٹ جاری کیا ہے کہ عوام چند روز تک غیر ضروری سفر نہ کریں،
جبکہ لسبیلہ اوتھل سمیت مختلف پہاڑی علاقوں میں بارشوں سے کئی متاثرہ جگہوں تک رسائی میں حکومت اور ریسکیو ٹیموں کو مشکلات پیش آرہی ہیں
ریسکیو اور ریلیف کی
کارروائیوں میں فوج، ایف سی اور سول ادارے حصہ لے رہے ہیں