کراچی پر سپر ہائی
وے بحریہ ٹاؤن میں معمولی تلخ کلامی کے دوران با اثر نوجوانوں کی فائرنگ سے جاں
بحق طالبعلم کے ورثاء انصاف ملنے کے منتظر ہیں۔پولیس جزلان کے قتل کیس میں مبینہ مرکزی ملزم کو دو ماہ بعد بھی گرفتار نہ
کرسکی۔قتل میں استعمال ایک ہتھیار بھی
برآمد نہ کرایا جاسکا۔
جزلان قتل کیس کو
دو ماہ گزر جانے کے باوجودپولیس مرکزی
ملزم کی گرفتاری میں تاحال ناکام ہے۔قتل کیس کی تفتیش کرنے والی سی آئی اے پولیس
کا دعوی ٰ ہے کہ جلد مقدمہ عدالت میں
پیش کردیا جائے گا۔پولیس حکام کے مطابق قتل کیس میں اب تک تین ملزم گرفتار کئے جا چکے ہیں جبکہ ایک
سہولت کارضمانت پر رہا ہے۔
سی آئی اے پولیس کے مطابق فرار مبینہ مرکزی ملزم
احسان نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرائی تھی۔پولیس
کی درخواست پر ضمانت منسوخ ہوئی تو مرکزی ملزم فرار ہوگیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے دوران نائن ایم ایم اور تیس بور پستول سے
فائر کئے گئے تھے مگر تاحال تیس بور پستول بھی نہیں برآمد کیا جاسکا۔
نے30بور پستول کی
گمشدگی ظاہر کرکے گھوٹکی میں جھوٹی پولیس رپورٹ درج کرائی تھی۔پولیس نے
مقدمے کے تیار چالان میں چار افراد
احسان،انشال ، عرفان اور حسنین کو ملزم جبکہ والد کو سہولت کار قرار دیا ہے۔
نوجوان طالبعلم جزلان کو معمولی تلخ کلامی پر بحریہ ٹاؤن کراچی میں 25 مئی کو قتل
کردیا گیا تھا۔