جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء کی سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی تحقیقی رپورٹ مکمل کرنے میں معاونت


جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء کی سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی تحقیقی رپورٹ مکمل کرنے میں معاونت

جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء کی سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی تحقیقی رپورٹ مکمل کرنے میں معاونت 


حال ہی میں کورونا وباء کے ذہنی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی تحقیقی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ 


رپورٹ کے مطابق 42 فیصد افراد ڈپریشن کے مرض میں پائے گئے ہیں۔ ان 42 فیصد میں 25 فیصد افراد خودکشی کی جانب مائل نظر آئے۔ تحقیق کے دوران مجموعی طور پر 62 فیصد افراد کے بے روزگار ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔


رپورٹ کے مطابق دیہی آبادی کے 81 فیصد جبکہ شہری آبادی کے 43 فیصد افراد کورونا وباء سے متاثر ہوئے ہیں۔ مشکل حالات میں 36 فیصد افراد نے دیگر لوگوں سے پیسے ادھار لیے، 21 فیصد افراد  اپنی جائیدادیں، مال اور مویشی فروخت کرنے پر مجبور ہوئے۔ تحقیق میں صوبے سے مجموعی طور پر 14 سو 94 افراد کو شامل کیا گیا


۔ مئی تا جون 2021 کے درمیان 12 اضلاع میں کیا گئے سروے میں جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء و طالبات نے سروے کرنے میں معاونت کی جبکہ اساتذہ نے سوالنامہ تیار کرنے میں مدد کی۔ چیئرمین شعبہ نفسیات پروفیسر قدسیہ طارق نے دو ماہ کے مختصر عرصے میں مکمل کیے گئے تحقیقی عمل کو خوش آئند قرار دیا۔


رپورٹ کی لانچنگ تقریب جمعرات کے روز کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ بطور مہمان خصوصی تقریب میں شریک ہوئے۔ تحقیق کی تکمیل میں دیگر جامعات سمیت مختلف غیر سرکاری تنظیموں نے بھی حصہ لیا۔