کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست این اے دوسو پینتالیس
پر ضمنی انتخاب کا معرکہ ہونے جارہا ہے۔
سیاسی سرگرمیاں
جاری ہیں، لیکن مختلف مسائل کا
سامنے کرنے والے ووٹر ز کو کسی تبدیلی
کی امید نہیں ۔
کہتے ہیں
حلقے میں درپیش مسائل کئی سال
سے حل طلب ہیں۔
ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ،سیوریج کا تباہ حال نظام اور
اہم شاہراہوں کا بُرا حال۔
یہ کراچی کا حلقہ این اے 245 ہے،،
جہاں اکیس
اگست کو ضمنی انتخاب کا دنگل ہوگا،،
لیکن ووٹرز
ماضی میں منتخب ہونے والے نمائندوں سے مایوس نظر آتے ہیں۔
حلقہ این اے 245 کی حدود میں واقع جہانگیر روڈ
ایک عرصے سے تباہ حال ہے ۔
سڑک پر جا بجا پڑے گڑھے گزرنے والے شہریوں کا امتحان لے رہے ہیں ۔
بارش کے
بعد تو یہ سڑک ناقابل استعمال ہو چکی ہے ۔
لائنز ایریا ، جٹ لائن ، بزٹا لائن ، خدادا
کالونی ، مارٹن کواٹر ، جمشید کواٹر ،پٹیل پاڑہ اور پی آئی بی کالونی کے گنجان
آباد علاقوں میں صفائی کا کوئی نظام موجود نہیں ۔
بارش کے بعد سیوریج کے نالے ابلے تو اندرونی گلیوں
کے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں ۔
حلقہ این اے 245 کے ووٹرز کہتے ہیں ان کے علاقوں میں پندرہ پندرہ دن پانی نہیں
آتا ۔ گارڈن ایسٹ ، پی ای سی ایچ ایس ،
طارق روڈ اور بہادر آباد کے مکین 8 سے 10
گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں
کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245 ضلع
شرقی کے گنجان آباد علاقوں پر مشتمل ہے ،
اس حلقے
میں کونسے علاقے شامل ہیں اور ماضی میں اس حلقے کے ووٹرز نے کس سیاسی جماعت کے کن
کن امیدواروں کو منتخب کیا تھا
اور اب
کونسے امیدوار مد مقابل ہیں ۔
کراچی کے ضلع شرقی میں واقع این اے دوسو پینتالیس
کا حلقہ ۔
پرانی حلقہ بندی کے مطابق این اے 251 اور 252کے
علاقوں پر مشتمل ہے
2018
میں ہونے والی حلقہ بندی کے مطابق اب اس حلقے میں پی ای
سی ایچ ایس، نرسری، طارق روڈ، ایبی سینیا لائن، جٹ لائن، جیکب لائنز، لائنز ایریا،
نشتر پارک، چڑیا گھر، پاکستان کوارٹرز، سولجر بازار، مزار قائد، نیوٹاون، لسبیلہ
چوک، پٹیل پاڑہ، گارڈن ویسٹ، مارٹن کوارٹرز، تین ہٹی، سینٹرل جیل، پی آئی بی کالونی
کے علاقے شامل کیئے گئے ہیں
دوہزار آٹھ کے عام انتخابات میں این اے 251 سے
ایم کیو ایم کے وسیم اختر جبکہ این اے 252 سے عبدل رشید گوڈیل منتخب ہوئے ، دو
ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں این اے 251 سے علی رضا عابدی اور این اے 252 سے
دوبارہ عبدل رشید گوڈیل منتخب ہوئے ۔۔ دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں این اے
245 سے تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عامر لیاقت حسین منتخب ہوئے
9
جون دو ہزار بائیس کو ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے انتقال
کے بعد اس نشت پر 21 اگست کو ضمنی انتخاب کے لئے ووٹنگ ہو رہی ہے
الیکشن کمیشن نے 5 لاکھ 15 ہزار سے زائد ووٹرز
کے لئے 263 پولنگ اسٹیشنز بنائے ہیں ۔تمام پولنگ اسٹیشنز کو حساس اور انتہائی حساس
قرار دیا گیا ہے ۔۔ ضمنی انتخابات میں 17 امیدواروں کے کاغذات نامدگی جمع کروائے
تھے ۔۔ جن میں سے اب 15 امیدوار مد مقابل ہیں ۔۔ پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے
اسلام کے امیدوار ایم کیو ایم کے امیدوار کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر چکے ہیں
ایم کیو ایم کے معید انور ، تحریک انصاف کے
محمود مولوی ، بحالی تحریک کے ڈاکٹر فاروق ستار اور تحریک لبیک پاکستان محمد احمد
رضا کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے جبکہ پی ایس پی کی جانب سے حفیظ الدین
مہاجر قومی مومنٹ کے محمد شاہد بھی مد مقابل ہیں
کراچی کےضلع شرقی میں واقع این اے دوسو پینتالیس کا حلقہ متوسط
طبقے کی آبادیوں اور پوش علاقوں
پر مشتمل ہے۔ حلقہ بندیوں میں تبدیلی کے بعد
اس حلقہ نے کیا شکل اختیار کی ،،
اور اس میں کون کون سے علاقے شامل ہیں۔
کراچی کے ضلع شرقی میں واقع این اے دوسو پینتالیس
کا حلقہ ۔۔ پرانی حلقہ بندی کے مطابق این اے 251 اور 252کے علاقوں پر مشتمل ہے۔
2018
میں ہونے والی حلقہ بندی کے مطابق اب اس حلقے میں پی ای
سی ایچ ایس، نرسری، طارق روڈ، ایبی سینیا لائن، جٹ لائن، جیکب لائنزشامل ہیں۔
لائنز ایریا، نشتر
پارک، چڑیا گھر، پاکستان کوارٹرز، سولجر بازار، مزار قائد، نیوٹاون، لسبیلہ چوک،
پٹیل پاڑہ، گارڈن ویسٹ کے علاقے بھی حلقے
میں آتے ہیں۔
حلقہ این
اے دو سو پینتالیس میں مارٹن کوارٹرز، تین ہٹی، سینٹرل جیل، پی آئی بی
کالونی کے علاقے شامل کیئے گئے ہیں
کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دوسو پینتالیس پر ضمنی
انتخاب کے معرکہ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ کس جماعت نے اپنے کس امیدوار کو میدان
میں اتارا ہے،
کراچی
ضلع شرقی کے حلقہ این اے دوسو پینتالیس
پر ضمنی انتخابات کا دنگل۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔
ایم کیو ایم کے معید انور ،پی ٹی آئی کے محمود
مولوی ، بحالی تحریک کے ڈاکٹر فاروق ستار ، تحریک لبیک کےمحمد احمد رضا میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
پا ک سرزمین
پارٹی کی جانب سے حفیظ الدین
اور مہاجر قومی مومنٹ کے محمد شاہد بھی اس نشست پر
انتخابی دنگل میں زور آزمائی کریں
گے۔
سیاسی اتحاد میں شریک پیپلز پارٹی اور جمعیت
علمائے اسلام کے امیدوار ایم کیو ایم کے امیدوار کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر
چکے ہیں ۔
ضمنی انتخابات کے لئے 17 امیدواروں
کی جانب سے کاغذات نامزدگی
جمع کرائے گئے تھے ان میں سے اب 15
امیدوار مد مقابل ہیں ۔