رہنما پی ٹی آئی حلیم عادل شیخ کے خلاف کراچی میں زمین پر قبضہ کے کیس
میں پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد۔
عدالت
نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو کراچی اسکیم تینتیس میں
کو آپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کی زمین پر قبضے کے کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ ، ملیر کی
عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس حلیم عادل شیخ کو لے
کر ملیر کورٹ پہنچی تو وہاں پی ٹی آئی
کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی،، جنہوں نے ان کے حق میں نعرے لگائے۔
پیشی
کےموقع پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کے پیر میں تکلیف ہوگئی۔
کارکنوں نے انہیں اٹھا کر
عدالت تک پہنچایا۔ حلیم عاد ل شیخ کا کہنا
تھا ان کے پیر کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے۔
دھکم
پیل میں پیر کی تکلیف بڑھ گئی۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے حلیم
عادل شیخ آبدیدہ ہوگئے۔
کہا انہیں دھکے دیئے گئے۔
راستےمیں گلے
سے پکڑ کر گرایا گیا۔
ادھر اُدھر گھماتے رہے۔ ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
گالیاں دی گئیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ دس روز سے ادویات نہیں دی گئیں۔
دو دن سے کھانا نہیں ملا۔
رات کو
تین بجے اٹھا کر ویڈیو فلم دکھائی جاتی ہے۔
ان کی ٹانگ
ٹوٹی ہوئی اور اس پر زخم پڑگئے ہیں۔
علاج
نہیں کرایا گیا۔ انہوں نے عدالت میں اپنی
ٹانگ بھی دکھائی۔
حلیم عادل شیخ نے بتایا کہ
وہ اپوزیشن لیڈر ہوتے ہوئے جیل میں ہیں جبکہ اسپیکر سندھ اسمبلی گورنر ہاوس
اور آصف زرداری کی بہن گھر پر ہیں۔
عدالت کےپوچھنے پر تفتیشی افسر نے کہا کہ انہوں نے ملزم کا گریبان نہیں پکڑا۔
یہ گرنےلگےتھےمیں قمیض پکڑکرگرنےسے بچایاتھا۔
سرکاری وکیل نے کہا ہمیں گزشتہ روزکسڈی ملی ہے۔
ٹھوس شواہد ہیں
تفتیش
کرنی ہے۔ریمانڈدیاجائے۔عدالت نے پولیس کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
کچھ دیر فیصلہ سناتے
ہوئے حلیم عادل شیخ کےجسمانی ریمانڈکی
استدعامستردکردی اور انہیں جیل بھیج دیا۔