کراچی میں دودھ کی قیمت کے تعین کے لیے کمشنر سمیت
ضلعی انتظامیہ کے اختیارات چیلنج۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جنید غفار نے سماعت سے
معذرت کرلی۔
سندھ ہائی کورٹ
کے جسٹس جنید غفار نے سماعت سے معذرت کرتے ہوئے مقدمہ دوسرے بینچ میں
بھجوانے کےلئے معاملہ چیف جسٹس کو ارسال کردیا۔
عدالت فریقین کو نوٹس جاری کرچکی ہے۔ڈی جی بیورو
سپلائی، کمشنر کراچی، سیکرٹری قانون اور دیگر سے جواب طلب کیا گیا تھا۔
درخواست گزار
کا موقف ہے کہ کمشنر کراچی، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر کو چھاپے مارنے کا اختیار
دینا غیر قانونی ہے۔
محکمہ بیورو سپلائی اینڈ پرائسز میں گیارہ سو تریسٹھ
ملازمین کا پینسٹھ کروڑ روپے بجٹ رکھا
جاتا ہے۔
ہورڈنگ اینڈ بلیک مارکیٹنگ ایکٹ میں غیر قانونی
ذخیرہ اندوزی پر سزاؤں کا تعین کیا گیا تھا۔
بارہ
سال پہلے دودھ کی قیمتوں کے تعین اور چھاپوں کا اختیار کمشنر کراچی کو دے دیا گیا۔
دودھ اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول
کرنا
جس
محکمے کی ذمہ داری ہے،،
اس
نوٹی فکیشن کے ذریعے غیر فعال کردیا گیا ہے۔