اسلام میں جبری شادی کا کوئی تصور نہیں۔ کم عمری کی شادیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو ضروری ہے۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

 اسلام میں جبری شادی کا کوئی تصور  نہیں۔ کم عمری کی شادیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو ضروری ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے  سماجی ہم آہنگی  علامہ طاہر اشرفی کا کہنا ہے

 اسلام میں جبری شادی کا کوئی تصور  نہیں۔ کم عمری کی شادیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو ضروری ہے۔

کراچی میں کم سنی کی شادی اورصحت کے مسائل   پر کانفرنس  میں علمااور دیگر مقررین نے اظہار خیال کیا۔

معاون خصوصی وزیراعظم  علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا اسلام میں  عاقل اور بالغ کےلئے شادی کا ذکر ہے۔

کم سنی میں  شادی   سے ماں بچہ   کی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے۔

 یہاں اگر آپ بچی کی شادی 15،16سال میں کرتے ہیں ڈاکٹر سے مشورہ نہیں کرتے اندرون سندھ میں کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس میں یا تو اپہاج پیدا ہوتا ہے یا کوئی نا کوئی مسئلہ آجاتا ہے

علامہ طاہر اشرفی   نے کہا کہ   اسلام میں جبری شادی کا کوئی تصور  نہیں۔

دین نے بیٹیوں کو بھی حق دیا ہے۔ رسم و روایات سے ہٹ کر بچوں کی شادی کرنی چاہے۔

رسول اللہ ﷺ نے خود مثال قائم کردی کہ بیٹیوں سے شادی کرنے سے پہلے ان کی مرضی پوچھ لو

ان کا کہنا تھا کہ اسلام نام ہی سلامتی کا ہے۔

 کم عمری کی شادیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو ضروری ہے۔

میڈیا  بھی  اس حوالے سے آگاہی فراہم کرے۔