عالمی بینک کے بورڈ اجلاس میں پاکستان کے سیلاب متاثرین کے
لئے ایک ارب ڈالر امداد کی منظوری کا امکان ہے۔
چیف سیکریٹری سندھ کا کہناہے اتنی بڑی تعداد میں لوگ متاثر
ہوئے۔
عالمی اداروں
کوکرداراداکرنا ہوگا۔
ورلڈ بینک کے دس رکنی وفد نے علاقائی
ڈائریکٹر جنوبی ایشیا کی سربراہی میں چیف سیکریٹری سندھ سہیل راجپوت سے ملاقات کی۔
چیف سیکریٹری نے بتایا کہ
صوبے میں تیس لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا اور
کپاس، کھجور، چاول اور گنے کی فصل
متاثر ہوئی ہے۔
اب تک دو لاکھ سےزائدمویشی مرچکےہیں۔ متاثرہ
علاقوں میں فصل ختم ہونے سے غربت بڑھنے کا خطرہ ہے۔
صوبائی حکومت لوگوں
کوخوراک اور ٹینٹ فراہم کر رہی ہے۔
کسانوں کوگندم کےبیج اورکم لاگت والےگھروں کی
تعمیرجیسے منصوبوں پر بھی کام کررہےہیں۔
لوگوں کی اتنی بڑی تعدادمتاثرہوئی ہے۔اس لئےعالمی اداروں کوکرداراداکرنا ہوگا۔
عالمی بینک کے ڈائریکٹر جنوبی ایشیا نے بتایا کہ
بینک کے بورڈاجلاس میں1ارب ڈالرامداد کی منظوری متوقع ہے۔
ورلڈ بینک کے وفد نے ایڈمنسٹریٹر
کراچی سے بھی ملاقات کی۔
مرتضی وہاب
کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کے تحت کراچی نیبرہُڈ امپروومنٹ پروجیکٹ پر
عملدرآمد سے شہر کو فائدہ ہوگا۔
شہر کے انفرااسٹرکچر کی
ترقی میں عالمی بینک کی مالی مدد اہمیت کی حامل ہے۔
عالمی بینک
موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر بھی غور کرے۔ منصوبوں پر عملدرآمد
میں حائل رکاوٹیں دور کریں
گے۔