دنیا
بھر کی طرح کراچی میں بھی گزشتہ روز ریبیز سے آگاہی کا عالمی دن منایا گیا۔ طبی ماہرین کہتے ہیں اگر بروقت ریبیز
جیسی خطرناک بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
کراچی
میں سالانہ ہزاروں افراد ڈاگ بائیٹ کا شکار ہوتے ہیں۔
ریبیز
کے شکار افراد جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔
ریبیز
ایک خطرناک بیماری ہے جو غیر ویکسین شدہ
پالتو جانوروں خاص کر کتوں کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔
اس
خطرناک بیماری کے نتیجے میں پوری دنیا میں سالانہ تقریبا ساٹھ ہزار مریض جان کی
بازی ہارجاتے ہیں ۔
سگ
گزیدگی کے لحاظ سے سندھ میں 2021 بدترین سال رہا ۔
جہاں پورے سال میں تیس ہزار افراد کو آوارہ کتوں
نے کاٹا اور پانچ افراد کی جان بھی گئی۔
صوبے
کے سب سے بڑے شہر کراچی میں صورت حال اس بار بھی اچھی نہیں ۔
رواں
سال اب تک جناح اسپتال میں 8 ہزار 2 سو
چوراسی جبکہ انڈس اسپتال میں 8 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ۔ تین افراد کی
اموات بھی ہوچکی ہیں۔
ماہرین
کا کہنا ہے کہ اس موذی مرض کا واحد علاج بروقت ویکسینیشن ہے۔ ریبیز سے بچاؤ کے
چاروں ٹیکے لگوانا ضروری ہیں۔
ماہرین
کے مطابق علاج سے زیادہ عام لوگوں میں آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر سے کچرے
اور گندگی کی صفائی بھی ضروری ہے۔
انڈس
اسپتال نے 2018 میں ریبیز فری کراچی پراجیکٹ بھی شروع کیا تھا۔
جو
ریبیز فری پاکستان میں تبدیل ہوا۔
کراچی
کے مختلف علاقوں میں 40 ہزار سے زائد کتوں کو ویکسین لگائی گئی اور 12 ہزار کتوں کی نس بندی بھی کی گئی ۔
سندھ
حکومت نے شہریوں کو ریبیز سے بچانے کےلیے
کتوں کی شیلٹر ہوم منتقلی اور ویکسینیشن کے لیے فنڈز مختص کیے ۔
اس
کے باوجود شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات ہے ۔
اس کے علاوہ محکمہ بلدیات سندھ نے ایک ہیلپ لائن
ون زیرو نائن تھری بھی متعارف کرائی تھی ۔
مگر شکایتوں کی شنوائی وہاں بھی نہیں ہوئی۔۔