ٹک
ٹاکر حریم شاہ کی وطن واپسی پر ایف آئی
اے کو گرفتاری سے روکنے کی درخواست۔
سندھ
ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے جب مقدمہ درج ہی
نہیں ہوا،،
گرفتاری سے کیسے روکیں۔ ایف آئی اے کو تحقیقات
سے نہیں روکا جاسکتا۔
عدالت
سے گیم کھیلنا بند کیا جائے۔
واپس لینے پر عدالت نے درخواست خارج کردی۔
سندھ
ہائی کورٹ نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ حریم شاہ نے اس سے
پہلےعدالتی حکم نامے کا غلط استعمال کیا۔
عدالت نے
ٹک ٹاکر کی وطن واپسی پر ایف آئی اے کو گرفتار کرنے سے روکا تھا۔
حریم شاہ نے چانس ضائع کردیا۔ٹک ٹاکر کے وکیل نے
موقف اپنایا کہ حریم شاہ ایف آئی اے کے سامنے سرنڈر کرنا چاہتی ہیں۔
ان کو تین
اکتوبر کو وطن آنا ہے، گرفتاری سے روکا جائے۔
عدالت
کے دریافت کرنے پر وکیل نے بتایا کہ حریم
شاہ کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوا۔
ایف
آئی اے نے انکوائری کے لیے طلب کیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے جب مقدمہ ہی درج نہیں
ہوا ،،تو گرفتاری سے کیسے روک سکتے ہیں۔
وکیل نے کہا
خدشہ ہے وطن واپسی پر ایف آئی اے حریم شاہ کو گرفتار کرلے گی۔
جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے کہ عدالت سے گیم
کھیلنا بند کیا جائے۔ سندھ ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو پہلے بھی تحفظ دیا۔ درخواست گزار نے عدالتی حکم نامے کا غلط
فائدہ اٹھایا۔
یہ
وہی لیڈی ہیں ناں جس نے رقم ظاہر کی تھی اور منی لانڈرنگ کا دعویٰ کیا تھا۔
ایف
آئی اے کو تحقیقات سے نہیں روکا جاسکتا۔