کراچی کورنگی کے فائر اسٹیشن میں پیش آئے ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کی گتھی سلجھ گئی

سدرہ پٹیل سدرہ پٹیل

کراچی کورنگی کے فائر اسٹیشن میں پیش آئے  ٹارگٹ کلنگ  کے واقعے کی گتھی سلجھ گئی

 

 

 

کراچی کورنگی کے فائر اسٹیشن میں پیش آئے  ٹارگٹ کلنگ  کے واقعے کی گتھی سلجھ گئی۔ محکمہ فائر بریگیڈ کے تین ملازمین کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والا  محکمے کے سابق ملازم کا بیٹا نکلا۔

ملزم سابق پولیس اہلکار بھی تھا جو آٹھ ماہ پہلے  ہی جیل سے چھوٹ کر آیا تھا ۔

 کراچی کورنگی کے فائر اسٹیشن میں  محکمہ فائر بریگیڈ کے تین ملازمین کے قتل کا واقعہ۔

رینجرز اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تہرے قتل کے مرکزی ملزم شیخ بلال ظفر فاروقی کو گرفتار  کرنے کا دعویٰ کردیا ۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث مرکزی ملزم بھی منظور کالونی فائر اسٹیشن  کے احاطے میں رہائش پزیر  تھا،ملزم کے والد بھی  محکمہ فائر بریگیڈ کے ملازم تھے  جنہیں سال دو ہزار گیارہ میں لیاری  سے مبینہ اغواء کے بعد قتل کردیا گیا تھا ،

پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے محکمہ فائر  بریگیڈ کے تین ملازمین کی جان لی۔

ابتدائی انکشاف کے مطابق تین افراد کے قتل کا مطلب والد کے قتل کا بدلہ لینا لگتا ہے ، لیکن ہم اس پورے کیس کو ہرزاویے سے دیکھیں گے ، یہ ایک بہت حساس اور اہم نوعیت کا کیس ہے

پولیس حکام کے مطابق  گرفتار ملزم پر ماضی میں فرید نامی شہری کو بھی قتل کرنے کا الزام ہے جس پر وہ کئی برس سے جیل میں تھا اور دسمبر 2021 میں ہی جیل سے چھوٹ کر آیا تھا ،گرفتار مرکزی ملزم ماضی میں کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کا اہلکار  بھی رہ چکا ہے ۔

    

یہ جیل میں تھا اور رہائی اس کی دوہزاراکیس دسمبر میں ہوئی ، محکمہ پولیس سے یہ ڈس مس تھا کیونکہ اس نے قتل کیا ہوا تھا ، اس کے حساب سے باقی لوگ جو اس نے قتل کیے بدلہ لینے کے لیے کیے

گرفتار ملزم پر ماضی میں درج ہونے والے مقدمات کا ریکارڈ بھی سامنے آگیا ۔۔ملزم کے خلاف سال دوہزار دس، دو ہزار بارہ اور دوہزار پندرہ میں بہادر آباد،لیاقت آباد پی آئی بی کالونی اور صدر تھانے میں قتل،اقدام قتل اور انسداد دہشتگردی سمیت غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات بھی درج ہیں۔۔۔