اسلام آباد
میں وزیر اعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کے بیانات
تضاد بھری داستان ہے، عمران خان کہتا تھا جنرل باجوہ میرے ساتھ کھڑے ہیں، انکا
کہناتھاکہ
عمران خان
کے بیانات کے بعد دشمن ملک ہندوستان کو اور کیا چاہیئے،
عمران خان
سر سے پاؤں تک جھوٹ کا ایک مجسمہ ہے،
عمران خان
پوری کوشش کر رہا ہے ملک کو پٹری سے ہٹانے کی
مجھ پر
پاناما کیس میں 10 ارب روپے کا الزام لگایا گیا، و
پانچ سال سے
کیس چل رہا ہے، ان کے وکیل پیش ہی نہیں ہوتے،
اس کو ایسے
ریٹائرڈ ججز چاہیئیں جنہیں یہ جاوید اقبال کی طرح بلیک میل کرے،
ملتان میٹرو
کا کیس کہاں گیا، چین کو بدنام کیا،
جاوید صادق
نامی شخص کو میرا فرنٹ مین بتایا گیا،
خارجہ پالیسی
کے حوالے سے راز میرے سینے میں دفن ہیں،
میں یہ راز
بیان نہیں کر سکتا،وزیراعظم نے کہاکہ
پنجاب حکومت
تمہاری ہے، پولیس بھی تمہاری تحقیقات کرواؤ،
عمران خان نیازی
کے پاس ثبوت ہے کہ انہی تین لوگوں نے سازش کی تو ثبوت لے آئیں،
اگر عمران نیازی
کے پاس ثبوت ہے تو مجھے ایک لمحے کیلئے بھی وزیراعظم نہیں رہنا چاہیئے،
ہیرے
جواہرات عمران نیازی کے خاندان کو ملے ہیں جو ثابت ہوتے ہیں
یہ جھوٹی ایف
آئی آر کٹوانا چاہتے ہیں تو کٹوا لیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاکہ
عمران خان
نے اداروں کو ملوث کر کے بلیک میلنگ کا کوئی موقع نہیں جانے دیا،
کوئٹہ سانحہ
پر شہداء کیلئے جو کچھ کہا گیا وہ دشمن بھی نہیں کہتا،
یہ پاکستان
میں 75 سال کا سب سے بڑا سیاسی بوجھ ہے،
رانا ثناء
اللہ کے خلاف ہیروئن کا جعلی کیس ڈالا گیا ،شہباز شریف نے کہاکہ
عمران خان
نے افسر کو حکم دیا کہ رانا ثناء اللہ پر جھوٹا کیس بناؤ،
عمران خان
کا دل پتھر کا ہے انسان کا نہیں،
یہ نعیم
الحق کے جنازے پر کراچی نہیں گیا،
علیم خان کو
پکڑا گیا تو اس نے کہا اسے ہتھکڑیاں کیوں نہیں لگائیں ،عمران خان نے ارشد شریف کے
کیس پر بھی سیاست کی، یہ جلاؤ گھیراؤ کی باتیں کرتا ہے ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں،
انکا کہناتھاکہ
ادارے کے
خلاف اس کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے جو کچھ کیا آسمان بھی روتا ہو گاڈی جی ایف آئی اے
کو بند میں نہیں کیا تھا آپ نے کیا تھا،
چیف جسٹس
عمران خان کے الزامات پر فل کورٹ کا کمیشن بنائیں،وزیراعظم کا عمران خان کے
الزامات پر فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ