اسلام آباد میں وفاقی وزیر
داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہاہےکہ یہ بات
آج تمام سیاسی صحافتی اور ان تمام مرکز کے لیے، قائدین کے لیے یہ بڑی ہی قابل اطمینان
قابل فخر یہ بات ہے کہ آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ
دو ٹوک واضح پیغام قوم کے سامنے رکھا ہے۔
ان کا کہناتھاکہ یہ فیصلہ ادارے میں کیا ہےکہ وہ آئینی حدود میں
رہ اپنا کردار ادا کرے گا،لوگوں نے کوڑے کھائے، جلا وطنیاں برداشت کیں، قید کی
صعوبتیں برداشت کیںِ۔میں کسی خاص شخص پر کسی جرم کا الزام نہیں لگا رہاسانحے کے
بعد سامنے آنے والے ثبوت ان دو افراد کی طرف جا رہے ہیں،سانحے کے بعد سامنے آنے
والے ثبوت ان دو افراد کی طرف جا رہے ہیں ان کو لگا کہ 25 مئی کا لانگ مارچ ناکام
ہی اس لیے ہوا کہ وہاں ڈیڈ باڈیز کا سہارا نہیں لیا گیا۔اب مرحوم صحافی کی ڈیڈ باڈی
ان کو میسر آئی۔
رانا ثناء اللہ نے کہاکہ
خصوصی آرمی چیف کو جن کی رائے سے اس فیصلے کو پوری قوم کے سامنے رکھا گیا، پوری
قوم کو گواہ بنایا گیا ہے کہ وہ ادارہ ملک کی سکیورٹی، نظریاتی سرحدوں کا محافظ
ہے، قوم کی بہتری کے لیے فیصلہ کیا ہے وہ اپنا آئینی کردار ادا کریں گے۔جو وہ کل
بھی کر رہا تھا، نیوٹرل جو باعزت لفظ ہے جو رہے گا، اس کی اس حرکت سے اس کے معنی
تبدیل نہیںڈاکا تو تم ڈال رہے ہو، توشہ خانہ، 50ارب کا ڈاکا، سب سے بڑے ڈاکو تو تم
ہو۔جو آدمی اس صورتحال میں فوج کے ادارے کو گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے، جو اس
جدوجہد میں تھا کہ آپ نیوٹرل کیوں ہیں،آرمی چیف کو بھی مبارکباد دیتا ہوں جنہوں
نے تاحیات آرمی چیف کی پیش کش کو ٹھکرا کر ادارے کا ساتھ دیا،