لاہور کی خاتون صحافی صدف نعیم کی جاں بحق ہونے کے بعد ٹوئٹر پر بحث مباحثے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر صحافی اپنے ذاتی تجربے کی مناسبت سے رائے دے رہےہیں۔صحافیوں کے ساتھ سوشل میڈیا کے ایکٹویسٹ بھی متحرک نظر آئے۔مختلف طبقہ فکر کے لوگ اس واقعے کو کیسے دیکھ رہے ہیں ملاحظ فرمائیں۔
رہنما پاکستان مسلم لیگ ن حمزہ شہباز نے کہاکہ خاتون کی اس ناگہانی موت پر دلی افسوس ہوا۔
کسی نے لکھاکہ انکے خاوند کی اس خواہش کا احترام کرنا چاہیے وہ پوسٹ مارٹم نہیں کرواناچاہتے تو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیے جس پر دیگر لوگوں نے رائے دیتےہوئےکہاکہ یہ کسی پولیس والے کی لکھائی لگتی ہے شوہر سے صرف بوقت ضرورت دستخط لیے گئےہیں
صدف کے قریبی دوستوں نے لکھا ہے کہ اس واقعے پر اب بھی مجھے یقین نہیں آرہاہے ایسا ممکن ہوسکتاہے۔
شیراز حسن نے انکے نماز جنازہ کی تصویر شیئر کی۔
ویرجی کوہلی نے لکھاہے کہ اس واقعے کی تفتیش ہونی چاہیے اس کے بغیر اسے ایسے رہنے نہیں دیا جائے۔
واقعے کے بعد چیئر مین تحریک انصاف عمران خان صدف نعیم کے گھر پہنچے انکی والدہ روتی رہی اور انہیں دیکھتی رہی دکھ اور درد کی کوئی زبان نہیں ہوتی بس اس کی نمائندگی ایک غمزدہ اپنے ان چار آنسوئوں سے ہی کرسکتاہے اور وہ بے بس ماں یہی کرتی نظر آئی۔
صحافی عمران اطہر منگی نے کراچی سے لکھاکہ اس کارڈ پر پڑے چند خون کےچھینٹے صدف نعیم بھٹی کی درد اور کرب کی داستان بیان کرنے کےلیے کافی ہیں۔معاشی بحران گھر میں ،چینل کی جھوٹی چھ ماہ کی تسلیاں، آج نہیں کل تنخواہ آئے گی، پھر بھی وہ رکی نہیں رپورٹ کرتی رہی ،ایک صحافی ایک عورت سب سے لڑتے لڑتے آخر چل بسی۔اس بےحس معاشرے میں
ریاض سہیل نے
لکھاکہ ٹی وی صحافت میں ایک ایسی مخلوق بھی ہے جو نیوز ڈیسک کہلاتی ہے
، جس کے دباؤ کا ہر رپورٹر شکار رہتا ہے ، فلاں پر ٹکر چل گیا تم نے نہیں دیا، اس
نے بریکنگ نیوز دی تم کہاں ہو، وہ وہاں پہنچ گیا تم کدھر مر گئے ہو ،“ سب سے پہلے
ہم “ کی دوڑ کی قیمت کبھی کبھار بھاری ادا کرنا ہوتی ہے