کراچی بلدیہ میں شعلوں کی نظرہو نے والی فیکٹری علی انٹرپرائززکی عمارت کوتوڑنےکا کام شروع کردیا گیاہے۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی  بلدیہ میں شعلوں کی نظرہو نے والی   فیکٹری علی انٹرپرائززکی عمارت کوتوڑنےکا کام شروع کردیا  گیاہے۔

کراچی  بلدیہ میں شعلوں کی نظرہو نے والی   فیکٹری علی انٹرپرائززکی عمارت کوتوڑنےکا کام شروع کردیا  گیاہے۔

مرحلہ وار بلڈنگ کے خستہ حال  حصوں کوگرایا جارہاہے۔

سال 2012 میں خوفناک آگ کاشکار ہونے والی بلدیہ کی علی انٹرپرائززکوسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نےمخدوش قرار دےدیا تھا،

 عمارت کواب توڑنےکا کام شروع کردیا گیا ہے۔

عمارت کی بالائی منزلوں کوپہلےمرحلےمیں توڑنےکا آغاز کیا  گیا ہے،،


 عمارت کےکمزورحصوں کوبھی توڑاجارہا ہے۔۔

 ہماراجومطالبہ ہےکہ فیکٹری مسمار ہونےسےروکی جائے، حادثہ کےچوتھےدن یہ آئےتھےورثا کوبلواکرکہا تھا کہ گھرگھرجائیں گےاورفی خاندان 5، 5 لاکھ روپےملیں گےلیکن کچھ بھی نہیں ہوا

کورٹ میں ابھی کیس چل رہا ہے،اوراسےمسمار کیا جارہا ہے، اگرمسمارہوگئی توکوئی سننےوالاہی نہیں ہوگا

متاثرین عمارت توڑنے کاعمل روکنےکیلئےسرگرداں ہیں۔ کہتےہیں کہ عمارت کوچھوڑیں پہلےمالکان جاں بحق ہونیوالےکےلواحقین کی امداد کا بندوبست کریں۔

 جرمن سےجوپیسہ آیا ہےوہ ہمیں نہیں ملا،،اورجوپینشن مل رہی تھی 5 سے6 سال کی وہ بھی انھوں نےبند کرادی

اس کپمنی کےمالک نےہم نےرابطہ نہیں کیا اس کمپنی میں جوتوڑ پھوڑ چل رہی ہےاس معاملےمیں ہمیں علم نہیں نہ ہی اعتماد میں نہیں لیا، پرائیوٹ بندےلگےہیں سرکاری بندہ کوئی یہاں نظرنہیں آرہا


کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں  حب ریور روڈ پر واقع ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ اور اس میں 259 افراد کے زندہ جل جانے کے واقعہ کو 10 سال گزر گئے۔ واقعے کا مقدمہ پہلے سائٹ بی تھانے میں فیکٹری مالکان، سائٹ لمیٹڈ اور سرکاری اداروں کے خلاف درج کیا گیا ، مختلف تحقیقاتی کمیٹیاں بھی بنیں اور جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا گیا لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکا۔2014

 میں فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ۔ شاہد بھائیلہ۔ اور عبدالعزیز دبئی چلےگئے۔


جرمن کمپنی کےآئی کےکی جانب  سے 56 کروڑ کی مجموعی رقم سیسی کےذریعے متاثرین کوتقسیم کی جارہی ہے۔

 تمام خاندانوں کو فی کس ساڑھے 19 لاکھ تک کی رقم مختلف ادا کی جاچکی ہے۔