کراچی آئی بی اے ، سینٹر آف ایکسلینس ان جنرالزم میں صحافیوں کو تحفظ اور بڑھتے جرائم اور چلینجز کے حوالے سے مذاکرے کا انعقاد کیا گیا
جس میں سینئر صحافیوں نے اپنے تجربے اور پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات ، کیسز ،تنقید اور اپنا موقف پیش کیا
کراچی میں صحافیوں کے خلاف جرائم سے مزید استثنیٰ نہیں ملے گا کے عنوان سے مذاکرہ ہوا ، جس میں پاکستان کے معروف صحافیوں نے حصہ لیا۔
پروگرام کی میزبان معروف صحافی اور ٹرینر عنبر شمسی نے کی . سینئرصحافی حامد میر نے کہاکہ آج کے دن جو ہمارے ساتھی دوران ڈیوٹی فرائض سرانجام دیتے ہوئے شہید ہوئے ہیں ان کے لیے کام کرنے کا دن ہے۔
ہمیں اس عزم کا اظہار کرناہے ہمارے وہ ساتھی جو ان دی لائن آف ڈیوٹی شہید کردیئے گئے ہے اور ان کے کیسسز ابھی تک حل طلب ہے ہمیں ان کے قاتلوں کو گرفتار کرناہے میں نےجیسے آپ کو بتایا کہ 150 ہمارے جو ساتھی ہے ٓصحافی اور میڈیا ورکرز پچھلے 25 سال میں انکو شہید کیاگیا ہے اس سال بھی تقریبا 6 صحافیوں کو شہید کیاگیا
تجزیہ نگار اویس توحید نے کہاکہ ہمیں غیرجانبداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا پھر ہی کہیں ہم حاصلات کی جانب آگے بڑھ سکتے ہیں ۔
ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ صحافیوں پر حملے کا کلچر بڑھ رہاہے معاشرے میں مختلف حلقوں کی میں اس کا خاتمہ ہوناچاہیے اور اس کے لیے احتساب کا عمل بھی ہوناچاہیے
سینئرصحافی محمل سرفراز نے کہاکہ آج کے دن تجدید عہد کا دن ہے جس میں صحافیوں کے باہمی اتحاد کا ہوناضروری ہے۔
سچ بہت مشکل ہے لیکن ہمارےہم صحافی ہیں ہمارا یہ کام ہے ہمارے ساتھیوں پر اس طرح کا حملہ ہوتو آواز اٹھائے
فیصل صدیقی نے کہاکہ مسائل کے تدارک کے لیے لازمی ہے کہ ہم معاشرتی حقیقتوں کو تسلیم کرے۔
کسی مسئلے کو حل کرناہے صرف شور نہیں مچاناچاہیے صرف رونا دھونا نہیں کرنا چہایے کہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی حقیقت کو تسلیم کرے پھر ہی آپ کو اس حوالے سے تبدیلی کے حوالے سے کچھ کرسکے گے۔
معروف صحافی نذیر لغاری کا کہناتھاکہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ معاشرے کی تشکیل میں بطور صحافی ہمارا کیا کردار ہے۔
ہمیں یہ سوچنا چاہیے اس معاشرے کی تشکیل میں ہمارا کیا کردارہے یہ بنیادی سوال ہے کیونکہ ہمارے اوپر بہت سے قرضے ہے جو اتارنے ہیں۔
مذاکرے میں
اٹھنے والے سوالات کے جواب میں بہت سارے مسائل کو اجاگرکرنے کے ساتھ ان کے تدارک
کے حوالے سے بھی بات کی گئی ۔