وقت کب رکا ہے۔ سال دوہزار بائیس بھی کب اور کیسے بیت گیا، پتا ہی نہیں چلا، لیکن یادوں کے تلخ و شیریں خزانے میں مزید کچھ اضافہ ضرور کرگیا۔
لمحے کہاں ٹھہرتے ہیں۔ یہ تو بس لہروں کی طرح آگے کی جانب گامزن رہتے ہیں۔
زندگی کے سفر میں جو مقام، جو رستے، جو سنگِ میل،گزر جاتے ہیں، وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ مگر وہ سب زمانے، یادیں بن کر زندگی بھر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
کبھی کبھی گزرے لمحات کی فلم یادوں کے پردے پر چلتی ہے،، تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، اور کبھی چہرے پر مسکراہٹ کے پھول کھل اٹھتےہیں۔
سال 2022 کی یہ سعاعتیں رخصت مانگ رہی ہیں۔نئے سال میں گزرے موسموں کا ذکر، قدرتی آفات، مال وجان کا نقصان ، ہجرت کا دکھ اوڑھے ان چہروں کو غمزدہ کررہاہے۔
زندگی کا پہیہ اتنی برق رفتاری سے آگے بڑھتا جاتاہے کہ بہت سے موڑ اور راستوں کے زخم وقت کے ساتھ ساتھ رستے رہتے ہیں۔لیکن نیا سال نئی روشنی، زندگی میں پھر جینے کی امنگ کوجنم دیتاہے جس میں نیا جوش ولولہ اور پھر سے ایک بار جینے کی خواہش انسان کو سب بھلانے پر مجبور کردیتی ہے۔
تجسس ، لگن اور کچھ کردیکھانے کی خواہش انسان کو کبھی بھی تھکنے نہیں دیتی انسان کا متحرک رہنا ہی اصل اسکا مقصد حیات ہے۔ سال 2023 میں سب ہی نے کچھ نیا اور بہتر کردیکھانے کا عزم کررکھاہے ۔
نیا سال ،نئی امنگ اور آرزوئوں کی روشنی لیکر آیا ہے زندگی کے ان نئے پل میں سب ہی نے اپنی خواب گاہیں سجا رکھی ہیں۔
سال 2023،،،،،،، نیا جوش ،،،،،ولولہ اور بہتری کی کئی امیدیں ساتھ لیکر آیا ہے۔ زندگی بدلتی رتوں کے ساتھ نیا رنگ آہنگ لیکر آئی ہے اور اس سال وہ کرگزرنا ہے جو پہلے ممکن نہ ہوسکا۔
کراچی کے شہریوں نے نئے سال کی آمد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہاہےکہ
نیاسال معاشی خوشحالی ، روزگار اورکامیابی کے نئے سنگ میل سے ہمکنار ہو ،بہتری، تبدیلی ، ترقی کے مواقع سب ہی کے لیے مساوی ہوں۔