کراچی کی سیاست میں نیا موڑ ۔ متحدہ پھر متحد ہوگئی۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی کی سیاست میں نیا موڑ ۔ متحدہ پھر متحد ہوگئی۔

کراچی کی سیاست میں نیا موڑ ۔ متحدہ پھر متحد ہوگئی۔ مصطفیٰ کمال اورفاروق ستار نے  خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ  پریس کانفرنس کے دورا ن ایم کیوایم میں ضم ہونے کا اعلان کیا۔


مصطفیٰ کمال نے 3مارچ2016کووطن واپسی پر دھواں دھار پریس کانفرنس کی اور ایم کیوایم سے علیحدگی کا اعلان کیا ۔۔۔جس میں انیس قائم خانی بھی ان کے ساتھ تھے۔ 23 مارچ 2016 کو پاک سر زمین پارٹی کے نام سے نئی جماعت کے قیام کااعلان کیا۔ایم کیو ایم کو 22 اگست 2016 کو  بانی ایم کیوایم  کی ایک متنازع تقریر کے بعد سیاسی و  تنظیمی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان  کے نام سے نئی جماعت تشکیل  دیتے ہوئے،، پارٹی رہنماوں نے  جماعت کے لندن گروپ سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ۔فاروق ستار نے 9 نومبر 2017 کو پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال اور  ایم کیو ایم کے باغی رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،،،اورہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑنے کا بھی اعلان کردیا۔ لیکن  اعلان کے 30 منٹ بعد ایک اور پریس کانفرنس کے دوران  سیاست میں واپسی کا اعلان اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھال لی۔ 


متحدہ قومی موومنٹ پاکستا ن کو ایک بار پھر سال 2018 میں اُس وقت دھچکا لگا  جب کامران ٹیسوری کوسینیٹر بنانے کی کوشش میں ڈاکٹر فاروق ستار کو پہلے پارٹی کنوینئر شپ اور بنیادی  رکنیت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ۔ 12فروری2018کو ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی کو کنونیئر منتخب  کیا گیا۔11جون 2018 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نےخالدمقبول صدیقی کو کنونیئر کے عہدے پر برقرار رکھا ۔15 جنوری 2023 کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل  ایک بارپھر تمام دھڑوں کو ملانے کی کی کوشش کی گئی۔ کنونیئر ایم کیوایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے پاکستان ہاوس میں مصطفیٰ کمال سے ملاقات  کی پھر سربراہ ایم کیوایم  حقیقی کے سربراہ آفاق احمد سے بھی ملے،،اور اسی سلسلے میں  پی آئی بی  میں تنظیم بحالی کمیٹی سربراہ فاروق ستار سے ملاقات کی ۔