کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا معرکہ۔چوراسی لاکھ سے زائد ووٹرز ،،پچیس ٹاونز، چارسو چھیالیس یونین کمیٹیوں اور نو سو چوارسی وارڈز کے لئے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں۔
تحریک انصاف ،پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتو ں کے امیدوار مدمقابل ہیں۔ ایم کیوایم پاکستان نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔
خدا خدا کر کے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا دنگل سج گیا۔ صبح آٹھ بجے پولنگ کا عمل شروع ہوا۔ ہفتہ وار تعطیل، سرد موسم اور ایم کیوایم کے بائیکاٹ کے سبب شروع میں زیادہ تر پولنگ اسٹیشنز پر سناٹا دیکھا گیا،، لیکن وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ ووٹرز کی تعداد کچھ بڑھ گئی۔ شہر کے سات اضلاع میں چوراسی لاکھ، پچھتر ہزار سے زائد ووٹر پچیس ٹاونز میونسپل کارپوریشنز، چار سو چھیالیس یونین کمیٹیوں اور نو سو چوارسی وارڈزکے لئے ووٹ کاسٹ کررہے ہیں۔ چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز کی نشستوں کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں نے سترہ ہزار، اکہتر امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ چھیالیس لاکھ سے زائد مرد اور سینتیس لاکھ سے زائد خواتین ووٹرز کے لئے ساتوں اضلاع میں پانچ ہزار سترہ پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ ان میں انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن کی تعداد پندرہ سو دو ہے۔ پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔