سندھ حکومت کا موسمیاتی تبدیلی پرآگاہی سےمتعلق تمام سرکاری و نجی جامعات میں الگ مضمون متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے
وزیرجامعات و ماحولیات اسماعیل راہو کی سیکریٹری جامعات اور تمام وی سیز کو موسمیاتی تبدیلی کے الگ مضمون پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر جامعات اسماعیل راہو کی تمام وی سیز کو ہدایت کی ہےکہ تمام جامعات موسمیاتی تبدیلی پرآگاہی سےمتعلق الگ مضمون متعارف کروائیں، انکا کہناتھاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے سندھ زیادہ درجہ حرارت اور خشک سالی کا شکار ہونے لگا ہے موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے جامعات میں طلبہ کو بنیادی معلومات فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے،انکاکہناتھاکہ
جامعات میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مضمون پڑھانے سے انسانی صحت کے معیار کو بہتر کرنے مدد ملے گی موسمیاتی تبدیلی کی تعلیم کی بدولت طلبہ و طالبات کو روزگار کے زیادہ موقع میسر ہونگے، مضمون کی تعلیم سے سمندری آلودگی،صنعتی ویسٹ منیجمنٹ اور اسپتالوں کےویسٹ ڈسچارج کےمسائل حل کرنےمیں مدد ملے گی، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، اس وقت اگر موسمیاتی تبدیلی پرآگاہی نہ دی گئی تو آئندہ نسل کو مزید پریشانی کا سامنہ ہوگا،اسماعیل راہونےکہاکہ سندھ سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہا ہے عالمی برادری بھی اس وقت موسمیاتی تبدیلی کو دھرتی اور اس کے مکینوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکی ہے، موسمیاتی تبدیلی اور اس سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آفات پاکستان کے لیے مستقل خطرہ رہینگی- موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں غذائی پیداوار کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔