عالمی سطح پر سر اٹھانے والے مسائل میں صحت کا مسئلہ بھی
ایک بڑا مسئلہ ہے جسے بڑے پیمانے پر توجہ دینے اور ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت اور
اس کے حوالے سے علاج و معالجے سے تعلق رکھنے والے اداروں کو بھی جانچ پڑتال اور
قوانین کا پابند رکھنا بہت ضروری ہے۔ بیماری سے لیکر صحت یابی تک کا سفر ہمارے ملک
میں بہت ہی مشکل مانا جاتا ہے، جس میں درمیانے درجے اور کم اجرتی افراد کچلے جاتے
ہیں۔ دوسرے ممالک اور ہمارے ملک میں بنیادی سہولیات، یعنی، خوراک، تعلیم، صحت اور
رہائش جو کہ دوسرے ممالک میں نسبتا کم قیمت یا مفت میں وظیفہ کی شکل میں مہیا کی
جاتی ہیں جن میں علاج و معالجے اور تعلیم کی سہولیات سر فہرست ہیں۔ پاکستان میں
مفت تعلیم تو جزوی طور پر دی جارہی ہے مگر
علاج و معالجے اور صحت کے حوالے سے سہولیات کسی بھی قیمت پر موجود نہیں۔جن پر ماضی میں بھی تبصرے ہوتے رہے
ہیں۔ علاج کے لیے سب سے ضروری جز ادویات کی فراہمی ہے، ڈاکٹر کی تجوز کردہ ادویات
اور فارما اسٹور سے ادویات کی فراہمی بھی ایک الگ اہم مسئلہ ہے۔
جب کوئی مریض اپنے علاج کے لیے ادویات خریدتا ہے تو اسکا
پورا کا پورا انحصار ڈاکٹر اور فارما اسٹورز پر ہوتا ہے۔ڈاکٹرز اور فارمسسٹ دو
ایسے حوالے ہوتے ہیں جن کی متعین کردہ ادویات
کی تجاویز اتنہائی نگہداشت کے بعد
مریض اور امراض کے لیے اہم ہوتیں ہیں۔ عالمی طور پر دوائیں تین کٹیگری میں
بازاروں میں ملتی ہیں۔ اوور دی کاؤنٹ، جنیرک ادویات کے نام سے، اور برانڈڈ نام س10,000 سے زائد خاص بیماریوں کے لیے تقریبا 500سے
زائد برانڈڈ اور انکے جنیرک ناموں سے
ادویات دستیاب ہیں۔
ایک عام دواجسے حرف عام میں جنیرک بھی کہتے ہیں ایک ایسی
دوا ہے جو خوراک کی شکل، حفاظت، طاقت، انتظامیہ کے راستے، معیار، کارکردگی کی
خصوصیات، اور مطلوبہ استعمال میں پہلے سے مارکیٹ میں مخصوص برانڈ کے نام کے ساتھ
پائی جانے والی دوا کی طرح بنائی جاتی ہے۔ یہ مماثلتیں یا ایک جیسی خصوصیات کی
حیاتیاتی مساوات یعنی کیمیائی مساوات سے بھی ثابت ہوتی ہیں دوسرے الفاظ میں، آپ
ایک عام دوا کو نامی برانڈ کی دوا جو کہ
اس کی ہم منصب ہو کے متبادل کے طور پر لے سکتے ہیں۔جس کی عام
مثال، ACCOLATE ایک
برانڈڈ دوا ہے جس کا نعم البدل عام فارمولا دوا یعنی جنیرک دوا ZAFIRLUKAST ہے
۔ اسی طرح ALPHAGAN P کی BRIMONIDINE ہے۔ BRETHINE کیterbutalineہے۔
کسی ملک میں کون سا ادارہ کس طرح اور کیوں ان
دواؤں کو نامی برانڈ کے مقابلے، ان جیسا
کام کر سکیں؟
پاکستان میں
دواؤں کے استعما ل کے طریقے اور چیکنگ کا ادارہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) ہے، رواں سال پاکستان کے تمام صوبوں میں بہت عرصے
بعد جنیرک دواؤں کے حوالے سے علان کیا گیا ہے کہ اس بات یقینی بنا یا جائے کہ
مہنگی اور نامی برانڈ کی دواؤں کی جگہ جنیرک دواؤں کو مریضوں کو پراسکرائب، کیا جائے، تاکہ قیمت
کی کمی کے باعث عام عوام ہر دوائی تک رسائی حاصل کرسکیں۔
فارماسسٹ سید محمد شارب نے جنیرک اور برانڈڈ ادویات کی
تفریق کی کہ" عام ادویات(جنیرک) برانڈڈ
پروڈکٹس (ریسرچ برانڈ) کے دواسازی اور علاج کے حساب سے مساوی ہوتی ہیں۔ فرق صرف
اتنا ہے کہ، فیز-1 سے فیز-3 کلینکل ٹرائلز جنرک ادویات کے لیے درکار نہیں ہوتیں ،
جبکہ برانڈڈ ادویات تحقیقی پروڈکٹس ہیں، جو کئی پری کلینیکل اور کلینیکل ٹرائلز سے
گزار کر تیار کی جاتیں ہیں"۔
فیز 1 اور 2 کے دوران، زہریلا اور فارماکوڈائینامکس کی
جانچ کرنے اور افادیت اور حفاظت کی جانچ کرنے کے لیے مریضوں کے چھوٹے سے درمیانے
درجے کے گروہوں پر دوائیوں کا تجربہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد، فیز 3 کے
تجرباتی ٹرائل میں مریضوں کے اس سے
بھی بڑے گروہوں کو دوا دیتے ہیں تاکہ افادیت کی تصدیق کی جا سکے۔ اور نتائج کا
دوسرے علاج سے موازنہ کیا جا سکے، تاہم، تمام دوائیں کامیاب نہیں ہوتیں، بہت سی
دوائیں حفاظتی یا افادیت کے خدشات کی وجہ
سے ناکام ہو جاتی ہیں۔ آخر میں، اسپانسرز نتائج کو ایک طویل اور مکمل درخواست کے
ساتھ (US FDA)فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنیسٹریشن
کو جمع کراتے ہیں اور منظوری یا انکار کا انتظار کرتے ہیں۔ تمام ادویات کو امریکہ میں فوڈ اینڈ ڈرگ
ایڈمنسٹریشن (FDA) اور دوسرے ممالک میں اس کے
مساوی اداروں کی سخت ہدایات اور نگرانی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ادویات کے جانچ
اور منظوری دینے کا کام ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (DRAP) کی
ذمہ داری ہے۔دواؤں کی کٹیگری کو مختص کرنا اور اس کے معیار کا تعین کرنا ہے ۔
فارماسسٹ سید محمد شارب ڈی آر اے پی کی ذمہ داریوں اور
ادویات کی جانچ کے حوالے سے کہتے ہیں
" ڈی
آر اے پی میں فارماکو ویجیلنس کا ایک مکمل نظام موجود ہے جو WHO Uppsala مانیٹرنگ
سینٹر کے تعاون سے ہے۔دراصل Uppsala Monitoring Center (UMC) منشیات
کی حفاظت اور سائنسی تحقیق کے لیے ایک آزاد مرکز ہے جو ایک ایسی دنیا کے لیے کام
کر رہا ہے جہاں ادویات کا محفوظ اور مؤثر استعمال عام ہے"۔
ایک مکمل نظام جب اپنے پورے معیار کے حساب سے کام کر رہا
ہو تو اس میں متعین کردہ قوانین پر عمل پیرا کروانے سے ایک مکمل پراڈکٹ اپنے
بھرپور معیار کے ساتھ قابل استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اگر قوانین پر عمل نا ہو یا قوانین کی بالا دستی نا ہو یا جزوی نظام ہو تو
پراڈکٹ بھی غیرمدلل معیار کی ہوتی ہے۔
اس حوالے سے لاہور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فیاض بلوچ، جو کہ ایک سوشل ایکٹیوسٹ بھی ہیں
کہتے ہیں کہ " برانڈ نام ، کسی بھی میڈیسن کا جنیرک میڈیسن کا جنیرک یا
فارمولا ایک ہی ہوتا ہے، سپروفلوکسیسین(Ciprofloxacin)، لیوو فلوکسیسین(Levofloxacin), مخلتف
ناموں سے ملتی ہے، جیسے لیویٹیٹ(Levitate), ، سپرآکسن ، مرسپ، سپلوکس یا اور بھی بہت سے ناموں سے ملتی
ہیں"۔
ایک سے زائد متبادل ادویات ہونے کے باوجود کیوں صرف
برانڈڈ ادویات کو ہی پزیرائی ملتی ہے،جبکہ نا صرف جنیرک بالکہ عام ادویات بھی
مختلف ناموں سے ملتی ہیں۔جیسا حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی فارما سسٹ ماہ زیب آرائیں
کہتی ہیں
"
برانڈ ڈ نام اور عام دوائیوں کے درمیان فرق
دوائیوں کی تیاری کا ہوتا ہے۔۔ جبکہ برانڈڈ نام کی دوائی سے مراد پروڈیوسر کمپنی
کی طرف سے نام دیا جاتا ہے، جنرک دوائی سے
مراد برانڈ نام کی دوائی کے فعال جزو کے
تحت تیار کی جانے والی ادویات ہیں۔ تاہم،
عام دوائیں مختلف برانڈ ناموں کے تحت بھی
فروخت کی جاتی ہیں لیکن ان میں وہی فعال اجزاء شامل ہوں گے جو برانڈڈ کا حصہ ہوتے۔
لیکن دوائیوں کی تاثیر کے حوالے سے، عام دوائیوں میں وہی کوالٹی کا فعال جزو ہوتا
ہے جیسا کہ برانڈ نام کی دوائیوں کا ہوتا ہے"۔
ادویات کی اقسام اور ان کے طریقے کار کو ڈاکڑ عدنان باچا
جن کو تعلق خیبر پختون خوا سے ہے کا کہنا ہے کہ
" ایسی
فارما برانڈڈ کمپنی جو کہ بہت پرانی اور عالمی شہرت کی حامل ہوتی ہیں اور انکے
بیرون ملک بھی پلانٹس لگے ہوتے ہیں ، جیسے ایبٹ ہت اور بھی بہت مشہور اور ابھی
اچھے برانڈز ہیں۔ اور انکے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ ٹیسٹ کیسے ہوتے ہیں وہ اس طرح کہ جو را
مٹیریل وہ استعمال کرتے ہیں، وہ باہر سے منگواتے ہیں۔ مینیوفیکچرنگ بھی اچھی ہوتی
ہے جو ٹیسٹ شدہ ہوتی ہے وہ رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ تو ان پر ڈاکٹرز کو ٹرسٹ ہوتا ہے، کہ یہ
ٹھیک ہونگی۔ دوسری ہوتی ہیں عام ادویات جو لوکل مینیو فیکچر ہوتی ہیں جیسے ایک گھر
میں پلانٹس لگا لیتے ہیں ایک گھر میں فیکٹری بنا کر ادویات تیار کرتے ہیں. تو ایسی
ادویات کم قیمت کی بن جاتی ہیں اور پھر وہ او-ٹی-سی ادویات بن جاتی ہیں اور لوکل
اسٹورز انہیں مہیا کرتے ہیں"۔
اوور دی کاؤنٹرOTC)
)دوائیں ایسی دوائیں ہیں جو آپ نسخے کے بغیر
خرید سکتے ہیں۔ کچھ OTC ادویات درد اور خارش کو دور کرتی ہیں۔ کچھ بیماریوں کو
روکتی ہیں یا ان کا علاج کرتی ہیں، جیسے دانتوں کی خرابی اور کھلاڑی کے پاؤں یا
دوسرے بار بار ہونے والے مسائل، جیسے درد
شقیقہ اور الرجی کو سنبھالنے میں مدد کرتے ہیں۔
فارماسسٹ سید محمد شارب ڈی آر اے پی کے جانچ کے مراحل کے
حوالے سے بتاتے ہیں کہ
"ڈی
آر اے پی کا ادرہ دو طرح کے ٹیسٹ کے زریعے بنائی جانے والی ادویات کی جانچ پڑتال
کرتا ہے۔ تاکہ دوا ، اس کے فارمولا، اثر، بعد میں ہونے والے طویل عرصے تک کے اثرات
کے لحاظ سے معیاری ثابت ہوسکے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مکمل چیک لسٹ
بنائی جاتی ہے۔ ہر طرح کی ادویات کے لیے کوالٹی ٹیسٹنگ اور بایو ایکوئیلنس اسٹڈیز
کی جاتی ہیں"
500 سے زائد برانڈڈ ادویات کا موازنہ اگر قیمت کے لحاظ سے کیمائی فارمولا کے ایک ہونے پر جنیرک نام کی عام ادویات قدرے سستی اور برانڈڈ ادویات برانڈ کی ان کے برانڈ کے تمام اخراجات کے ساتھ اور تجرباتی مراحل کی وجہ سے قدرے مہنگی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر عدنان باچا اس حوالے سے بتابتے ہیں کہ
"او-ٹی-سی
ادویات کی اگر برانڈڈ ادویات ھونگی تو وہ 300 سو کی ہے تو یہ اسے 30 یا 40 روپے کی
دیتے ہیں۔ لیکن پھر وہی اسٹور والا انہیں مہنگے داموں فروخت کرتا ہے۔ تو اس لیے
بھی ڈاکڑز برانڈڈ ادویات پریسکرائب کرتے ہیں، ظاہری بات ہے ڈاکٹرز کو اس سے اتنا
کوئی زیادہ فائدہ تو نہیں ہوتا۔ لیکن
ڈآکٹرز تو یہ چاہتے ہیں کہ انکا مریض اچھا ہوجائے،اس لیے ہر کوئی اپنا فائدہ دیکھ
رہا ہوتا ہے"
اسی حوالے سے فارماسسٹ ماہ زیب کا کہنا ہے کہ
" عام
ادویات کی قیمت ان کے برانڈ نام کے ہم منصبوں سے کم ہوتی ہے کیونکہ عام ادویات کے
درخواست دہندگان کو جانوروں اور طبی (انسانی) مطالعات کو دہرانے کی ضرورت نہیں
ہوتی ہے جو حفاظت اور تاثیر کو ظاہر کرنے کے لیے برانڈ نام کی دوائیوں کے لیے درکار
ہوتے ہیں"۔
اس بات کی وضاحت فارما سسٹ سید محمد
شارب کرتے ہوئے کہتے ہیں " کیونکہ دوائیوں کی نشوونما، پری کلینیکل
اینیمل اسٹڈیز، فیز 1 سے 3 کے کلینیکل ٹرائلز کے لیے کوئی خرچ نہیں کیا جاتا ہے جس
میں کم از کم 5 سے 10 سال لگتے ہیں"۔
قیمت کے اس تعین میں سب سے بڑا کرداردو خصوصیات پر ہوتا ہے جوDRAP کی منظوری حاصل کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں 1۔ مینوفیکچرنگ کے اچھے طریقے2۔ ICHمینوفیکچرنگ کے رہنما خطوط۔عوامی شکایات پر 2020 دسمبر کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) نے یہ بھی ہدایت جاری کی ہیں کہ ڈاکٹرز مریضوں کو جنرک ناموں کے ساتھ دوائیں لکھیں۔ یعنی عام دواؤں کو انکے برانڈ نام کے ساتھ نہیں انکے اجزاء کے عام نام کے ساتھ لکھیں۔ احکامات کے حوالے سے سب سے بڑا اختلاف یہ پایا جاتا ہے کہ داکٹرز اور فارما میڈیکل اسٹور کے مالکان کے اپنے اپنے مفادات ہیں جس کی وجہ سے سارا بھگتان عام عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اس حوالے سے
ڈاکٹر فیاض بلوچ کہتے ہیں
ڈاکٹرز یہ کرتے ہیں کہ جب فارما کمپنی والے انکے پاس آتے
ہیں اور انہیں بتاتے ہیں، جیسے مثال کے طور پر، سپروفلوکسیسین ان ناموں مطلب،
لیویٹیٹ ، سپرآکسن ، مرسپ، سپلوکس وغیرہ کے نام سے ہے ، اور وہ ان میڈیسن کو
مریضوں کو تجویز کرے، اب ڈاکٹرز کو اس میں فوائد بھی ہوتے ہیں جیسا کمپنی کا بجٹ
ہو اس لحاظ سے ہی فوائد ہوتے ہیں ، اب تو عمرہ یا فارن ٹرپس بھی ہوجاتے ہیں۔اگر
ڈاکٹرز برانڈڈ ادویات کو تجویز کرتا ہے تو پھر وہ اس کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے لیکن اگر ڈاکٹرز برانڈڈ ادویات کی جگہ صرف
جنیرک نام تجویز کرے تو مریض کے پاس بھی اپنے بجٹ اور مرضی کے مطابق ادویات لینے
کا راستہ موجود ہوتا ہے،لیکن پھر اس کے بعد دوسرے طرف فارما سیوٹیکل اسٹور والے
اپنی مرضی سے مہنگی یا سستی ادویات دے دیتے ہیں اور اکثر میڈیکل اسٹور والے لازمی
مہنگی ادویات ہی دے کر فوائد حاصل کرتے ہیں۔ تو دونوں اطراف چیزیں دیکھنے اور ان
کو صحیح کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر جنیرک نام کی کوئی بھی ان برانڈڈ ادویات دی
جائیں تو پھرذمہ داری کوئی نہیں لیتا، دونوں اطراف ہی پابند کرنے کی ضرورت ہے۔"۔
ڈریپ کی طرف سے محفوظ نگرانی کے لیے رہنما خطوط بھی جاری کیے
جاتے ہیں۔اور جنیرک ناموں کو تجویز کرنے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ پاکستان میں جنرک
ادویات برانڈڈ ادویات سے زیادہ تجویز کی جاتی ہیں کیوں کہ یہاں 60 فیصد آبادی
درمیانے درجہ کی ہے۔ اور اس کا تناسب نہیں
ہوتا یہ ہمیشہ برابری کی بات ہوتی ہے اور جس کا معیار جیسا ہو اسی طرح کی ادویات
تجویز کی جاتی ہیں۔
کراچی کے ڈاکٹر آکاش لاکھانی کہتے ہیں کہ
" ہم
ڈاکٹر طب میں برانڈز کو ترجیح نہیں دیتے، ہم ابتدائی طور پر مریض کی مالی حالت چیک
کرتے ہیں جس کے مطابق ہم دوائی لکھتے ہیں۔ لیکن ہاں اگر کوئی شخص مالی طور پر
مضبوط ہے تو برانڈڈ ادویات بازار میں دستیاب عام دوائیوں سے زیادہ تیزی سے
مدد کرتی ہے مریض دوسرے مریضوں کی نسبت
تیزی سے اپنی بیماری سے نجات پاتا ہے لیکن
اس کا سب سے بڑا انحصار دوائی کی اجزائے ترکیبی پر ہوتا ہے"۔
2020 دسمبر
کے بعد سے کچھ پابندیا دیکھنے میں آئی ہیں اور باقی قوانین پر عمل درآمد کروانے پر
کام جاری ہے۔ سابق ڈرگ انسپیکٹر حوش محمد لاشاری کہتے ہیں کہ
" کسی
بھی عام دوا کی شناخت تجرباتی تجزیات کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے۔ مینوفیکچرر کو
دیکھ کر لوگ کئی پہلوؤں کے لحاظ سے ایک دوا کو دوسری پر ترجیح دے سکتے ہیں مریض دوا کو اس کے اثر سے سمجھ سکتا ہے جو کہ
ڈاکٹر کی ضمانت کے بغیر بھی مریض کو آسانی سے دوا کے کسی خاص برانڈ کی طرف راغب
کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ مریض کی شوگر لیول کو جتنا زیادہ کنٹرول کیا جائے گا مریض
کی طرف سے کسی خاص دوا کو ترجیح دی جاتی
ہے۔ لیکن اس کا ایک اختلافی پہلو بھی ہے کہ یہ مکمل طور پر ڈاکٹروں کی ترجیحات اور
مارکیٹنگ کے رجحانات پر منحصر ہے"
جنیرک یا عام ادویات کے قیمتوں کا تخمینہ لگانے کے لیے جس
فارمولا کے تحت قیمت کا موازنہ کیا جاسکتا ہے .
پاکستان میں فروخت ہونے والی تمام دواسازی کی مصنوعات کو
پہلے DRAP سے منظور شدہ ہونا ضروری ہے
اور ان کی فروخت سے پہلے زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP) مقرر کی جانی چاہیے۔ قیمتوں
کی یہ حدیں حکومت پاکستان نے 1976 سے اس وقت سے قائم اور نافذ کی ہیں جب اس شعبے
کو منظم کرنے والی قانون سازی پہلی بار متعارف کرائی گئی تھی۔جنیرک ادویات کی قیمتوں کا فارمولا 2015 کے
نوٹیفکیشن کے لحاظ سے مارکیٹ رینٹل پرائز، را مٹیریل اور پیکیجنگ میٹیریل کے
مجموعہ *مارک
اپ کے برابر ہوتا ہے۔تمام زبانی تیاری اور دیگرموقع جاتی تیاری
(اینٹی بائیوٹکس اور ہارمونز کے بغیر) کی
ادویات کی قیمت 2.25، اینٹی بائیوٹکس کی 2.3
اسی طرح تمام جراثیم سے پاک، ہارمونز اور مانع حمل کی ادویات 2.80 اور تمام ایسپٹک تیاریاں (انجیکٹ
ایبل)3.40 کی قیمتوں کے حساب سے سیٹ کی گئیں۔
ان فارمولا کے تحت اگر قیمت کا ہر دوائی کی موجوگہ قیمت
کے لحاظ سے مارکیٹ پرائز معلوم کیا جائے تو با آسانی اضافی آمدنی جو فارما سیوٹیکل
کمپنیز حاصل کر رہی ہیں 6 ، 10 اور 16 دسمبر کے آنے والے نوٹیفیکن کے عکس سے معلوم
ہوتا ہے کہ جیسا 2020 دسمبر میں اضافی قیمت وصول کرنے
کی عوامی شکایت سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان، انڈیا، اور بنگلہ دیش کی بالترتیب مقابلتا فیصد مارکیٹ قیمت کے فارمولا
کچھ یوں ہے کہ، جنیرک ادویات کی ٹریڈ
پرائز ، تیاری کی قیمت اور مارک اپ کے
مجموعہ کے برابر ہوتا ہے جو کہ 70 فیصد تک ہوتا ہے، اسی طرح امپورٹڈ ڈرگز
کی مارکیٹ پرائز، لینڈڈ پرائز اور مارک اپ کے مجموعے کے برابر 35 فیصد تک ہوتا
ہے۔جبکہ تیار شدہ شکل میں درآمد شدہ ادویات اور مقامی لیبلنگ اور کارٹوننگ کے لیے
مارکیٹ پرائز کی مقابلے کی شرح ، لینڈ ڈ اور پیکیجنگ پرائز اور مارک اپ کے مجموعے کے برابر ہے جو کہ 35
فیصد تک ہے۔
ڈریپ نے دس جنوری
2019 کو جو ہدایت نامہ جاری کیا اس جس میں
2018 کو جاری کئے گئے ہدایت نامے کا حوالہ دیتے ہوئے نو فیصد ہارڈ شپ ادویات پر خوردہ قیمت بڑھنے کا خدشہ
ظاہر کیا گیا ، اور پندرہ فیصد عام ڈرگز
کی خوردہ قیمت میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
اگرچہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں عام ادویات کی مارکیٹ
میں قیمتوں کا مقابلہ صارفین کے سرپلس کو بڑھاتا ہے، اس کی دو اہم وجوہات ہیں جن
کی وجہ سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک اب بھی قیمتوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ سب
سے پہلے، دواسازی پر استطاعت اور اخراجات کو کنٹرول کرے گھرانوں کے لیے صحت کے کل
اخراجات کا ایک اہم تناسب ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ پر اثر پڑتا ہے۔ دوسرا، عام یا جنرک ادویات کی مارکیٹ نہ صرف قیمت پر
مقابلہ کرتی ہے بلکہ برانڈ پر بھی۔ چونکہ فرمیں قیمت اور برانڈ ویلیو پر مقابلہ کر
رہی ہیں، قیمت کا مقابلہ کم ہو گیا ہے۔ ایک برانڈڈ عام مارکیٹ کم آمدنی والے ممالک
میں موجود ہے کیونکہ ان ترتیبات میں جہاں ضوابط کے کمزور نفاذ کی وجہ سے
مینوفیکچرنگ کا معیار مشکوک ہو سکتا ہے، برانڈ کے ناموں کا استعمال معیار کو ظاہر
کرنے اور مصنوعات میں فرق کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات غور طلب ہے کہ اگر بات ترجیحات کی ہے تو کیا طبی
لحاظ سے اس کو کس پیمانے پر ناپا جا سکتا ہے، کیوں کہ درحقیقت اس کا جواب صرف اور
صرف یا تو فارما اسٹورز ماکلان کے پاس ہے یا پھر ادویات کے خریدار مریض کے پاس
، ادویات کی فراہمی اور ان کی دستیابی کو ممکن
بنانا بھی فارما اسٹور مالکان کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ 10000 سے زائد امراض
اور ان کے لیے ادویات کو فراہم کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے، جس میں ہر طرح کی احتیات
اور ہدایات کو مد نظر رکھ کر ادویات دی جاتی ہیں۔
اس بات کی وضاحت کراچی سے تعلق رکھنے والے فارما میڈیکل
اسٹورز کے کچھ مالکان کا کہنا ہے کہ
" کراچی
کی آبادی میں تقریبا 60 فیصد حصہ درمیانہ طبقہ سے اور اس سے کم اجرتی افراد پر
مشتمل ہے جو کہ، میڈیکل اسٹورز مالکان کے نے عوامی رائے کی نشاندہی کی کہ عوام
زیادہ تر عمومی بیماریوں کے لیے جنیرک ادویات کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر کوئی
خاص بیماری ہو تو برانڈڈ کو ترجیح دیتے ہیں"
مالکان یہ بھی
کہا کہ "عوام کو اگر اوسطا تناسب دیکھا جائے تو 60 فیصد جنیرک عام اور سستی
ادویات کو ترجیح دیتے ہیں۔ "
عام ادویات ان کے ہم ترکیب برانڈڈ ادویات کی ہی طرح علاج
کا اثر رکھتیں ہیں لیکن وہ عام طور پر کافی رعایتوں پر فروخت کی جاتی ہیں، جو کہ
برانڈ نام کی دوائی کی قیمت کے مقابلے میں 80 سے 85 فیصد کم ہے. جب متعدد عام
کمپنیوں کو ایک ہی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لیے منظوری دی جاتی ہے، تو بازار میں
زیادہ مسابقت ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں عام طور پر مریضوں کے لیے قیمتیں کم ہوتی
ہیں۔
عام ادویات کو اور انکے معیار کو بہتر بنانے یا یہ کہا
جائے تو غلط نہ ہوگا کے قابل بھروسہ بنانے کے لیے مستحکم اور جدید طرز کے طریقے
اپنا نے کی ضرورت ہے، ٹیسٹ کے طریقوں اور جانچ بہتر طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے
۔ منشیات کے مقابلے کو مارکیٹ میں لانا اور دوائیوں کی زیادہ قیمتوں سے نمٹنا
عالمی ڈرگ ریگیولر اتھارٹی کے ادوروں کی
اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ 2017 میں، FDA
نے ڈرگ کمپیٹیشن ایکشن پلان (DCAP) نےاعلان
کیا تاکہ عام ادویات کے لیے مضبوط اور بروقت مارکیٹ مسابقت کی مزید حوصلہ افزائی
کی جا سکے اور جنرک ادویات کے جائزے کے
عمل میں زیادہ کارکردگی اور شفافیت لانےمیں مدد ملے۔
کچھ تبدیلیاں مینوفیکچرنگ کے دوران، برانڈڈ
اور عام دونوں کے لیے ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔ جب کوئی دوا، عام یا برانڈڈ،
بڑے پیمانے پر تیار کی جاتی ہے، تو سائز، طاقت اور دیگر پیرامیٹرز میں بہت چھوٹی
تبدیلیوں کی اجازت ہے جو یو ایس اے کا
ادارہ ایف ڈی اے محدود کرتا ہے اور وہ قابل قبول ہے۔ اسی طرح اگر عوامی ترجیحات
اور سہولیات کو مد نظر رکھتے ہوئے ادویات کو تبدیل کر کے بہتر کیا جا سکے تو مذید
آسانیاں ہوجائیں گی۔ تجرباتی طور پر جب مختصر تبدیلیاں کی گئی تو آئی ایم ایس
ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، عام ادویات نے 2009 سے 2019 تک امریکی صحت کی دیکھ
بھال کے نظام کو تقریباً 2.2 ٹریلین ڈالر کی بچت کی۔
2021 کے لحاظ سے کچھ برانڈڈ اور جنیرک ادویات کی قیمتیں اگر موازنہ کی جائیں
تو اس بات کی نشاندہی کرنا آسان ہوگا کہ کس قدر اضافی قیمتوں کے ساتھ اس موجود
ہیں۔
سیفسپین،400 ملی گرام کیپسول اینٹی
بائیٹک ہائی ریکومنڈٹ دوا جسے آغا خان ، لیاقت نیشنل کے ڈاکٹرز ریفر کرتے ہیں، تھرڈ
جنریشن دوا جو کہ ہر قسم کے جسمانی انفیکشن کے لیے مؤثر ہے۔اس کی کمپنی میں ہی اس
پر ریسرچ کی گئی ہے ، اسے زخم سکھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اسے مختلف برانڈ
سے بنا یا جاتا ہے جو کہ اس سے کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہے، جیسے گیٹز اور فارم وو
، اس کی قیمت 500 ہے اور ایک پیکٹ میں 5
ٹیبلیٹ ہوتی ہیں۔ جسے کھول کر نا بیچنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔سیفسپین 100ملی گرام
فی ملی لیٹر اینٹی بائیٹک(ایبٹ) اس کی قیمت فی ٹیبلیٹ 80 روپے ہے۔ امائرل 2 ملی
گرام(سنوفی), Clarithromycin
کئی بیکٹیریل تناؤ کے خلاف جراثیم کش طاقت رکھتی ہے۔ جانداروں میں ہیموفیلس
انفلوئنزا، اسٹریپٹوکوکس نمونیاوغیرہ ۔کلاریسایڈ 500 ملی گرام،(ایبٹ)ساس حیاتیات
کی وجہ سے ہونے والے انفیکشن کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہیں ۔ اشارے میں سانس
کی نچلی نالی کے انفیکشن شامل ہیں، مثال کے طور پر شدید اور دائمی برونکائٹس، اور
نمونیا۔ان جیسے بہت سی ادویات جو کہ اہم امراض میں لی جاتی ہیں کچھ ادویات جو
برانڈڈ ہیں اور انکی کم قیمت کی ہم منصب ادویات موجود ہیں۔ جیسے، سٹرو سوڈا پاؤڈر
(ایبٹ)، ڈوفیسٹان 10 ملی گرام(ایبٹ)،سپروکسین 500 (بائر)، ریوولک 150/32۔5 ملی
گرام(فارم وو)،اورسلم کیپسول 120 ملی گرام(فارم وو)، جارڈی-میٹ12۔5/1000 (سی سی
ایل)،انڈروپ وٹامن ڈی 3 1 ملی لیٹر، ایٹم نیبو لائزر سلوشن، ٹرانسمین
500 ملی گرام(انجیکشن)، گریوی بی نان(بائر)ریسیک20 ملی گرام(گیٹز)، ایزی ڈےٹیبلیٹ
50 ملی گرام، مونٹی گیٹ 10 ملی گرام
(گیٹز) ان ادویات کی قیمت 1500 سے 150 تک کی قیمت کی ادویات شامل ہیں۔
اس نفس مضمون کو مزید پختگی دینے کے لیے اور عوامی ترجیحات کو جاننے کے لیے برانڈڈ اور
جنیرک ناموں کی ادویات کے استعمال اور اطمنان کے درجہ کو سروے رپورٹ سے ماپا گیا تجزیہ سے یہ بات
سامنے آئی کہ تقریبا 65 فیصد عوام جنیرک ادویات کو قابل بھروسہ قرار دیتے ہیں۔
عام دوائیوں کے مینوفیکچررز کو اس بات کی وضاحت کرنی
چاہیے کہ وہ کس طرح دوائی تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس بات کا ثبوت فراہم
کرنا چاہیے کہ مینوفیکچرنگ کے عمل کا ہر مرحلہ ہر بار ایک ہی نتیجہ پیدا کرے
گا۔دوائیوں کے لیے نسخے جاری کیے جا سکتے ہیں جن میں مینوفیکچرر کے نام کی بجائے
صرف کیمیائی نام کی وضاحت ہوتی ہے۔ اس طرح کے نسخے کو کسی بھی برانڈ کی تصریح پر
پورا اترنے والی دوا سے بھرا جا سکتا ہے۔ریاست ہائے متحدہ میں ایسے قوانین موجود
ہیں جو کہتے ہیں کہ منشیات کا ایک عام ورژن برانڈ نام کے ورژن جیسا نہیں لگتا ہے۔
صرف اس وجہ سے کہ دوائیوں کے دو ورژن ایک جیسے نظر نہیں آتے اس کا مطلب یہ نہیں ہے
کہ وہ جسم میں مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ہمیں اپنے وسائل اور مسائل کو مد نظر رکھتے
ہوئے، ادویات کو تجرباتی مراحل سے گزار کر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ عوام کو
کم سے کم علاج معالجے کے لیے جانیں گنوانی نہ پڑیں، ہسپتالوں کے دگرگوں حالات اور
اس سے زیادہ نظم و ضبط کا فقدان عوام کے لیے کسی عزاب سے کم نہیں، یہ ایک الگ بحث
ہے کہ اسپتالوں کے حالات کیسے ہیں لیکن کم سے کم مہنگائی کے مارے عوام کو کسی
ایک سہولت سے تو آراستہ کیا جاسکے۔