ایکسپریس اخبار کے ایڈیٹر اور صحافت کی دنیا کی معتبر شخصیت طاہر نجمی مختصر علالت کے بعد خالق حقیقی سے جاملے

عرفان علی عرفان علی

ایکسپریس اخبار کے ایڈیٹر اور صحافت کی دنیا کی معتبر شخصیت طاہر نجمی مختصر علالت کے بعد خالق حقیقی سے جاملے

ایکسپریس اخبار کے ایڈیٹر اور صحافت کی دنیا کی معتبر شخصیت طاہر نجمی مختصر علالت کے بعد خالق حقیقی سے جاملے، انتقال پر صدر، وزیر اعظم سمیت سیاسی سماجی و مذہبی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔


ایکسپریس اخبار کے بانی رکن طاہر نجمی مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے، مرحوم کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹ کے سیکریٹری بھی رہے چکے ہیں، مرحوم طاہر نجمی حرنلسٹ گروپ گرین پینل کے سربراہ تھے۔ مرحوم طاہر نجمی ضیا الحق کے خلاف صحافیوں کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک میں شامل تھے اور اس دوران مرحوم کو گرفتار کرکے سکھر جیل میں رکھا گیا تھا۔ محروم کے انتقال پر صدر، وزیراعظم، گورنر سندھ، وزیر اعلی سندھ سمیت سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ طاہر نجمی دنیائے صحافت کی عظیم شخصیت تھی۔ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کی روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر طاہر نجمی کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم ایک با اصول اور منجھے ہوئے صحافی تھے۔ طاہر نجمی نے تمام عمر اظہارِ رائے کی آزادی کے لئے جدوجہد کی۔ طاہر نجمی اردو صحافت میں استاد کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کے انتقال سے شعبہ صحافت کا نا پر ہونے والا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے طاہر نجمی کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم صحافت کا ایک سنہری باب تھے اور آج یہ باب ہم سے جدا ہوگیا ہے۔ طاہر نجمی کی صحافت اور صحافیوں کے لئے خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالٰی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔