تھرمیں لگائے 750 آر او پلانٹس میں سے تین سو چالیس فعا ل ہیں دیگر کو ترجیحی بنیادوں پر فنکشنل کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ناصر حسین شاہ

عرفان علی عرفان علی

 تھرمیں لگائے 750 آر او پلانٹس میں سے تین سو چالیس فعا ل ہیں  دیگر کو ترجیحی بنیادوں پر فنکشنل کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ناصر حسین شاہ

سندھ کے دیہی عوام کو مختلف واٹر سپلائی اسکیموں کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔وزیر بلدیات و پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا  سندھ اسمبلی سے خطاب

تھرمیں لگائے 750 آر او پلانٹس میں سے تین سو چالیس فعا ل ہیں  دیگر کو ترجیحی بنیادوں پر فنکشنل کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ناصر حسین شاہ

کرا چی۔صوبائی وزیر بلدیات و پبلک ہیلتھ  انجینئرنگ سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے دیہی عوام کو واٹر سپلائی کی مختلف اسکیموں کے ذریعے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےآ ج سندھ اسمبلی میں پبلک ہیلتھ  انجینئرنگ کے حوالے سے وقفہ سوالات کے موقع پر کیا ۔انہو ں نے اس موقع پر کہا کہ تھر کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے 5 ارب 24 کروڑ روپے کی لاگت سے 750 آر او پلانٹس لگائے گئے ہیں جن میں سے اس وقت تین سو چالیس فعال ہیں جبکہ دیگر کو فنکشنل کرنے کے لیے سندھ حکومت ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ انسانی ہمدردی اور اور ضرورت کے تحت  تھر کے پسماندہ اور غریب عوام کے لیے آراو پلانٹس لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ تھر میں پانی کی لائنیں بچھائی گئی جن کے ذریعہ سینکڑو ں  گھرو ںکو پانی فراہم کیا جارہا ہے اور تھر کے لاکھوں عوام اس سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر بلدیات نے کہا کہ آبادی  اور ضرورت کے لحاظ سے صوبے کے مختلف مقامات پر چھوٹے بڑے آراو پلانٹس لگائے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت آر او پلانٹس کو سولر انرجی کے ذریعے چلایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیریں جناح کالونی سمیت ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے تمام آر او پلانٹس کو فعال کرنے کے اقداما ت  کیے جا رہے ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اضافی پانی کی مختلف سکیموں پر کام جاری ہے جس کے بعد شہریوں کو اضافی پانی فراہم کیا جا سکے گا اور کسی حد تک پانی کی کمی کو پورا کر لیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہا ئیڈرینٹس  کے حوالے سے اپوزیشن اراکین کے خدشات دور کرنے اور شفافیت کے لئے حکومت اور اپوزیشن اراکین کی کی مشترکہ کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں واٹر بورڈ کی سپلائی نہیں ہے۔ ان علاقوں میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے مختلف اسکیموں اور آر او پلانٹ جس کے ذریعے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاتا ہے اسی طرح ڈسٹرکٹ کونسل کراچی میں واٹر بورڈ کام نہیں کرتا بلکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ذریعے پانی فراہم کرتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ناصر شاہ نے کہا کہ آراو پلانٹس کی دیکھ بھال سندھ حکومت کے ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ واٹر ٹینکر کے ذریعے صرف 3.5 ملین گیلن ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے  ۔صو با ئی وزیر بلدیا ت  نے اس موقع پر سینئر صحافی طاہر عزیز کے والد محترم کی مغفرت اور درجات بلند کرنے کے لئے دعا کی ۔