کراچی کے دل سے جڑا ایک ثقافتی ورثہ شفقت ہاؤس بھی ہے جو عدم توجہ کے باعث خستہ حالی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔
عمارت کے بیرونی حصے کو محفوظ کرلیا جائے
تو یہ ورثہ شہر کی خوبصورتی میں اضافے سمیت شہریوں کی تفریح کا سبب بھی بن سکتا ہے
محمد بن قاسم روڈ اور دین محمد وفائی روڈ کے سنگم پر قائم اس کشادہ عمارت کو ایک نظر دیکھیں تو کسی بھوت بنگلے کا گمان ہوتا ہے۔
یہ بھوت بنگلہ نہیں بلکہ شہر قائد کا ایک اور نظر انداز ثقافتی ورثہ ہے۔
جس کے ایک جانب حال ہی میں تعمیر ہوا پیپلز اسکوائر ہے اور ساتھ ہی برنس روڈ کی فوڈ اسٹریٹ لیکن کسی کی توجہ اس عمارت پر مرکوز نہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کے بلڈر مافیا ایسی عمارتوں کو ڈھا کر پلازے تعمیر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
یہ غیر قانونی عمل ہے۔ جو سالوں سے چلا آ رہا ہے۔
تین منزلہ عمارت میں 40 اپارٹمنٹس اور دکانیں موجود ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مخدوش ہوتی جارہی ہیں
لیکن عمارت کا پتھروں سے تعمیر کیا گیا بیرونی حصہ اب بھی محفوظ ہے۔ محکمہ ثقافت و سیاحت اور نوادرات کو بھی عمارت کی خستہ حالی کا علم ہے۔
اگر فوری توجہ دی جائے تو قیام پاکستان سے قبل قائم کی گئی
اس عمارت کو رہائشی اور کاروباری دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔