بڑھتی مہنگائی اورجانوروں کی بلندہوتی قیمتوں کے سبب اجتماعی قربانی کا رجحان بڑھ گیا ہے۔

عرفان علی عرفان علی

بڑھتی مہنگائی اورجانوروں کی بلندہوتی قیمتوں  کے سبب  اجتماعی قربانی  کا رجحان بڑھ   گیا ہے۔

بڑھتی مہنگائی اورجانوروں کی بلندہوتی قیمتوں  کے سبب  اجتماعی قربانی  کا رجحان بڑھ   گیا ہے۔

جگہ جگہ لگےاجتماعی قربانی کےبینرز،،ان شہریوں کیلئےاطمینان کا سبب بن رہےہیں

جوقربانی کی نیت توکررہےہیں لیکن سات حصوں پرمشتمل مکمل جانورکی خریداری نہیں کرپارہے۔

شہرکےمختلف علاقوں میں مرکزی مساجدوں سمیت مدرسوں اورکشادہ علاقوں میں اجتماعی قربانی کا بندوبست کیا گیا ہے۔

گائےکا کم سےکم حصہ 15 ہزارجبکہ زیادہ سےزیادہ 21 ہزارروپےمیں مل رہا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق اجتماعی قربانی میں لوگوں کوسہولت زیادہ ہوتی ہےاوراس وقت اپنا جانورکرنےمیں اسکی دیکھ بھال کرنا بڑی پریشانی ہوتی ہےتوپھراس اعتبارسےلوگوں کو رجحان مناسب ہےاجتمعاعی کی طرف پہلےسےبڑھا ہے،م کیونکہ جذبہ والا کام ہے،اسلئےلوگ کوئی نہ کوئی ترتیب بناکرقربانی میں حصہ لےرہےہیں

ہمارےپاس ابھی تو30 جانوروں کی تعداد ہوگئی ہے،21ہزارروپےہمارافی حصہ طے ہے

شہری کہتےہیں مسلسل بڑھتی مہنگائی اورجانوروں کی اضافی قیمتوں نےانکی قوت خریدکو متاثرکیا ہے،، لیکن سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئےوہ حصہ ڈال رہےہیں۔

شہری کہتے ہیں کہ پچھلےسال جو جانورایک لاکھ کا تھا وہ اب ڈیڑھ لاکھ کا آرہا ہےجسکی وجہ سےاجتعاعی قربانی کی طرف جانا پڑا ہے،سنت ابراہیمی کوتوپوراکرنا ہئ ہے

حصہ لینا مسجدوں یا مدرسوں میں یہ افورڈیبل ہوجاتا ہےکیونکہ ایک پوری گائےلینا آج کےدورمیں بہت مشکل ہے،،حصےپھرسستےپڑجاتےہں اورلوگ افورڈ کرلییتےہیں

کرنےوالےکررہےہیں ابھی بھی چھوٹا جانورلےرہےہیں ابھی جس رینج میں اچھا خاصا جانورآجاتا تھا اسمیں اب چھوٹا جانورلےرہےہیں زیادہ تراجمتعاعی کی طرف جارہےہیں اسکےاندربھی تقریبا وہی چیزپڑرہی ہےایک حصہ 20ہزارتک جارہا ہےایک چالیس کا تویہ ہوگیا حساب سیدھا سیدھا

رواں سال بکرےکی قیمت 18 سے25ہزارروپے۔ اونٹ کےایک حصہ کی قیمت 17 سے ساڑھے 18ہزارروپےمیں مقررکی گئی ہے