کراچی کے خلیق الزمان روڈ کی لیوبریکنٹس کی بوتلیں سے تعمیر

عرفان علی عرفان علی

کراچی کے خلیق الزمان روڈ کی لیوبریکنٹس کی بوتلیں سے تعمیر

پلاسٹک ویسٹ کو ٹھکانے لگانے اور بہتر استعمال میں لانے کے لیے نجی پیٹرولیم کمپنی نے  کراچی میں ڈی ایم سی ساؤتھ کی مدد سے ضلع جنوبی کی ایک سڑک استعمال شدہ پلاسٹک سے تعمیر کی ہے۔


 سڑک کی تعمیر میں ڈھائی ٹن لیوبریکنٹس کی بوتلیں استعمال کی گئی ہیں۔

کراچی کے خلیق الزمان روڈ سے متصل کری روڈ کی ازسر نو تعمیر استعمال شدہ بوتلوں کی مدد سے کی گئی ہے۔

 نجی پیٹرولیم کمپنی نے ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ضلع جنوبی کے ساتھ ملکر 730 فٹ رقبے پر یہ سڑک تعمیر کی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ سڑک کم لاگت کی ہے۔


 دیگر سڑکوں کے مقابلے تین گنا زیادہ بہتر ہے۔

اس سڑک میں 5 فیصد پلاسٹک استعمال ہوا ہے۔ جبکہ پلاسٹک کا وزن 2.5 ٹن ہے، ایک نارمل سڑک سے تین گنا زیادہ زندگی ہے اس سڑک کی۔ اس سڑک کی مرمت بھی آسان ہے

سڑک کی تعمیر میں 2 اعشاریہ 5 ٹن سے زائد لیوبریکنٹس کی بوتلوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف انوائرمنٹل اسٹڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال شمس کہتے ہیں کہ پاکستان میں پلاسٹک کی گروتھ سب سے زیادہ ہے۔ ایسے میں یہ تجربہ خوش آئند ہے۔۔مگر اس کے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

دیگر انڈسٹریز کے مقابلے پلاسٹک انڈسٹریز کا گروتھ ریٹ زیادہ ہے۔ مستقبل میں مائیکرو پلاسٹکس ایک مسئلہ بن کر سامنے آسکتا ہے

ایسفالٹ کے ساتھ سڑک کی تعمیر میں 5 فیصد پلاسٹک استعمال کی گئی ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق استعمال شدہ پلاسٹک سے سڑکیں بنانے والے ممالک اب اس کے اثرات سے نمٹنے کا پلان بھی بنا رہے ہیں۔کراچی میں اس مرحلے کو گلیوں تک محدود رکھا جانا چاہیے۔

 

ناردرن بائی پاس اور ہائی وے کی سڑک پر ایسے تجربات نہ کیے جائیں۔ چھوٹی سڑکوں پر جہاں ہیوی ٹریفک نہیں وہاں ٹھیک ہے۔ سڑک بھی ہیٹ اپ ہوجاتی ہے

ماہرین کے مطابق دیگر ممالک ویسٹ مٹیریل سے بنی سڑکوں کو سائیکلنگ اور دیگر صحتمند سرگرمیوں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔