کراچی میں سر راہ لوٹ مار، شہریوں کا دن دیہاڑے قتل معمول بن گیا۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی میں سر راہ لوٹ مار، شہریوں کا  دن دیہاڑے قتل معمول  بن گیا۔

کراچی میں سر راہ لوٹ مار، شہریوں کا  دن دیہاڑے قتل معمول  بن گیا۔

پولیس اور صوبائی حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام نظر آتی ہے۔

 شہری فریاد  لے کر سندھ ہائی کورٹ  پہنچ گیا۔

  گلشن اقبال کے  مکین نے شہر  میں ڈکیتی مزاحمت پر شہریوں  کے قتل اور امن و امان کی مخدوش صورتحال پر سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

 درخواست گزار کا کہنا ہے  پندرہ  اگست کو فیڈرل  بی ایریا میں نوجوان فہد کو ڈاکووں نے قتل کردیا ۔

 پانچ جنوری کو  گلستان جوہر میں  ڈاکووں نے ثناء نامی خاتون  کی جان لے لی تھی۔  دسمبر دوہزار بائیس  میں یونیورسٹی کے طالب علم جہانگیر کو ڈاکووں نے  مارا ڈالا تھا۔

 سندھ حکومت ،آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

وی وی آئی پیز کی  سیکیورٹی  ہٹا کر عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔   درخواست میں سندھ حکومت کو سیف سٹی منصوبہ جلد مکمل کرنے کا حکم  دینے اور شہر میں آنے والے  تمام افراد  کریمنل ریکارڈ چیک  کرنے کی  استدعا کی گئی ہے۔