سال دوہزار بائیس ،تیئس معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل ترین ہوتا جارہا ہے ۔
ڈالرنےبھی تاریخی بلندی تین سو روپے کوچھولیا۔
تحریک انصاف کی حکومت سےقبل ڈالرکی قیمت 121 روپےکی سطح پرموجود تھی۔
پی ٹی آئی کے ساڑھے 3 سالہ دور میں ڈالر 56 روپے تک مہنگا ہوا تھا۔ حکومت کےاختتام پرڈالرکی قیمت 177 روپے47 پیسے تک پہنچ گئی۔
شہبازشریف کی پی ڈی ایم حکومت کے آغاز 15اپریل 2022 کو ڈالر185 روپے63 پیسےکی سطح پرموجود تھا ،،
اور اختتام تک ڈالر 102 روپے86 پیسے تک مہنگا ہوا۔
مئی 2022 میں پہلی بارڈالرنےڈبل سنچری مکمل کی۔
جولائی میں سب سےزیادہ ایک ماہ میں ڈالر 27 روپے 20 پیسےتک مہنگا ہواتھا۔
اگست کےمہینےمیں ڈالرکی قیمت میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
اگست کےپہلے ہفتےمیں ڈالر 13 روپےتک سستا ہوا۔
جبکہ دوسرےہفتےمیں ڈالرکی قیمت میں 8 روپے54 پیسے تک گراوٹ ہوئی۔
ماہ ستمبر میں ڈالرکی قیمت میں پھراتارچڑھاؤرہا اورمہینےکےاختتام پرڈالر 240 روپےتک مہنگاہوا۔
ستمبرمیں آئی ایم ایف کی قسط ملی۔ اسحاق ڈارنےوزیرخزانہ کا دوبارہ منصب سنبھالا لیکن ڈالرکوریوریس گیئر نہ لگ سکا۔
26 جنوری 2023 کوڈالرایک روزمیں ایکساتھ سب سےزیادہ 24 روپے54 پیسوں تک مہنگا ہوکر 255 روپے43 پیسے کی سطح پربند ہواتھا۔
فروری میں ڈالر 261 روپے50 پیسے میں فروخت ہوا۔
مارچ میں ڈالر18روپے98 پیسوں تک مہنگا ہوکر285 روپے9پیسوں کی سطح پربندہواتھا۔
اگست کےاختتامی ایام میں ڈالرنے ٹرپل سنچری مکمل کرلی۔