اتفاقی حادثہ یا سازش
کراچی میں گاڑیوں کا قبرستان ایک بار پھر شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔
اتوار کے روز گلشن اقبال نظارت میں لگنے والی آگ نے ایک سو سے زائد موٹر سائیکلوں کو جلا کر راکھ کردیا۔
منتظمین کہتے ہیں کہ دیکھ بھال کا نہ ہونا ان واقعات کا سبب ہے
کراچی گلشن اقبال میں واقع نظارت کے مقام پر ایک مرتبہ پھر شعلے بھڑک اٹھے۔
اتوار کے روز رونما ہونے والے واقعے میں امانتاً رکھی گئیں سیکڑوں موٹر سائیکلیں جل کر خاکستر ہوگئیں ۔
ہیروئنچی اندر آتے ہیں سگریٹ پیتے ہیں اس سے آگ لگتی ہے،اندر آکر لوگ سگریٹ پی رہے تھے نشے کے عادی نشہ کررہے تھے جس کی وجہ سے آگ لگی
منتظمین کہتے ہیں کہ نظارت میں نشے کے عادی افراد کی رسائی کا ممکن ہونا پے درپے یہاں آتشزدگی کے واقعات کا سببب بن رہا ہے ۔
چھٹی کے باوجود فوری طور پر ایکشن لیا گیا اور فائر بریگیڈ کا شکریہ ادا کروں گا کہ بروقت آئے اور بڑے حادثے سے بچا لیا گیا، تقریبآ سو کے قریب بائیکوں کا نقصان ہوا ہے،جو حالت آپ دیکھ رہے یہ سوکھی جھاڑی ہے اگر یہ آگ پکڑ لیتی تو کتنا بھی اچھا فائر بریگیڈ ہوتا پورے کو جلنے سے نہیں بچا سکتے تھے
کیس پراپرٹی کے طور پر پولیس کی تحویل میں آنے یا سڑک پر لاوارث ملنے والی گاڑی اور موٹر سائیکلوں کو نظارت میں لاکر امانتاً رکھا جاتا ہے، مگر متعلقہ حکام کی عدم توجہ اور مختلف وجوہات کی بناء پر یہاں اب ان گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے محض ڈھانچے باقی رہ گئے ہیں۔
ماضی میں جون 2022 میں نظارت میں آگ بھڑکنےسے 400 موٹرسائیکلیں اور 40 گاڑیاں جل کر تباہ ہوگئی تھیں۔ جنوری 2016 کو بھی نظارت میں آگ بھڑکی جس سے 60 گاڑیاں جل کر تباہ اور دیگر 100 کو نقصان پہنچا تھا۔