دادو میں پیسوں کے عوض 13 سالہ بچی کی زبردستی شادی کروانے والوں کے خلاف دادو پولیس کا ایکشن،
بچی کو حفاظت میں لے کر، ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا, مقدمہ درج
دادو کے قریب بھائی خان لاشاری گاؤں میں 13 سالہ بن ماں کی بچی صائمہ دختر ملوک لاشاری کی پرورش کرنے والی رشتے دار عورت نے پیسوں کی لالچ میں زبردستی بڑی عمر کے شخص کے ساتھ شادی کروا دی
متاثرہ بچی شکایت لے کر دادو پولیس کے پاس پہنچی جس پر دادو پولیس فی الفور متحرک ہوئی،
متاثرہ بچی کو خواتین پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں دادو پولیس کے وومین اینڈ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ میں حفاظتی تحویل میں رکھا گیا،
تھانہ دادو اے سیکشن پہ سرکاری مدعیت میں ایف آئی آر جرم دفعہ 6,5,4, 5 سندھ چائلڈ میرج ایکٹ 2013ء کے تحت لڑکی کی زبردستی شادی کروانے والی عورت اور اس کے شوہر سمیت بچی سے شادی کرنے والے دولہا، دولہا کے باپ، نکاح خواں مولوی اور نکاح کے گواہان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا،
تھانہ دادو اے سیکشن اور وومین پروٹیکشن سیل پولیس نے مزید کاروائی کرتے ہوئے لڑکی کی پیسوں کے عوض شادی کروانے والی رشتے دار خاتون سعیدہ لاشاری، دولہا کے باپ غلام حسین جمالی اور نکاح خواں حافظ غلام مرتضیٰ ڈاوچ کو گرفتار کرلیا ہے،
جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے بھی پولیس مزید متحرک ہے۔
واضح رہے کہ متاثرہ بچی صائمہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 4 سال کی تھی تو والد نے پرورش کیلئے قریبی رشتے دار بڈھل لاشاری اور اس کی بیوی سعیدہ کے حوالے کیا جنہوں نے لالچ میں آکر 15 روز قبل 5 لاکھ روپے کے عوض زبردستی میری شادی کمال جمالی کے ساتھ کردی۔ موقع پا کر پولیس کے پاس تحفظ کیلئے پہنچی
دوسری جانب اس معاملے میں بہترین فرائض انجام دینے پر ایس ایس پی دادو ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ نے وومین پروٹیکشن سیل اور اے سیکشن پولیس کو شاباش دی ہے اور دیگر نامزد ملزمان کو بھی جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے۔