سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی براہ راست سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ تیسری سماعت کی۔ سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری کی جانب سے دلائل جاری قانون عدلیہ کی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے، عابد زبیری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رولز بنانے کا اختیار عدالت عظمٰی کے پاس ہے، یہ واضح ہے کہ سپریم کورٹ اپنے رولز بنا سکتی ہے ،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا سپریم کورٹ آئینی حدود میں اپنےرولز بنا سکتی ہے، سماعت کا آخری دن ہے، دلائل ساڑھے 11 بجے تک مکمل کریں ، چیف جسٹس نے حکم دیا آپ پہلے اپنی معروضات جمع کرادیتے، چیف جسٹس کاعابد زبیری سے مکالمہ کیا یہ کاغذات پڑھنا آسان ہے ؟سینئروکیل کو ایسے نہیں کرنا چاہیے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا مغربی ممالک میں ایسا ہوتا ہے؟ کیا مغربی ممالک میں کبھی کسی نے اسلامی اصولوں کی بات کی ہے؟ پریکٹس اینڈ پروسیجر سے متعلق رولز صرف سپریم کورٹ بنا سکتی ہے، عابد زبیری نے عدالت کوبتایا
پارلیمان کے پاس سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کے رولز بنانے کی اتھارٹی نہیں ، عابد زبیری نے بتایا کہ آئین میں سبجیکٹ ٹو کا کا مطلب نہیں کہ پارلیمان سپریم کورٹ کے رولز بنا سکتی ہے، معاملے پر الگ قانون سازی اختیارات سے تجاوز ہو گا، آئین پارلیمنٹ کو معاملے پر قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، ہم سبجیکٹ ٹو لا کا لفظ کاٹ دیں فرق کیا پڑے گا ؟ چیف جسٹس کا عابد زبیری سے سوال فرق نہیں پڑے گا، صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے عدالت کو بتایا فرق نہیں پڑے گا نا، تھینک یو، اگلے پوائنٹ پر چلیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی آپ کہہ رہے ہیں کہ نئی قانون سازی نہیں ہوسکتی؟ جسٹس اعجاز الاحسن کا وکیل سے سوال آپ کے مطابق سپریم کورٹ پہلے سے موجود قانون کے مطابق رولز بنا سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیاکہ آئین میں سپریم کورٹ رولز بنانے کا اختیار کہاں اور کس کو دیا گیا ؟ آئین کے مطابق رولز بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے ، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار آئین کے مطابق ہی ہے ،
ہر چیز آئین کے ہی مطابق ہو سکتی ہے سب کو معلوم ہے، جسٹس منیب اخترنےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ایسا کیا ہوتا ہے جب مرضی سے امریکا میں کاغذات فائل کریں ؟ عابد زبیری کی جانب سے سپریم کورٹ آف نیوجرسی کے کیس کا حوالہ ہمیں اتنا بھی نیچا نہ کریں کہ سپریم کورٹ آف نیو جرسی کی مثال دیں، چیف جسٹس کا استفسار آپ سپریم کورٹ آف امریکا کا حوالہ دیں، چیف جسٹس کا عابد زبیری سے مکالمہ سپریم کورٹ آف نیو جرسی کا حوالہ ضرور دیں لیکن الفاظ اس سے زیادہ اہمیت کے قابل ہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس فل کورٹ معاملے کو سن رہی ہے، آپ شاید معاملے کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہے، چیف جسٹس ہم یہاں وکلا سے معاونت لینے کے لیے بیٹھے ہیں، آئین کے آرٹیکلز کو الگ الگ کر نہیں پڑھا جا سکتا، جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیاکہ آئین پارلیمان کو سپریم کورٹ کے قانون بنانے کی اجازت نہیں دیتا ہے، عابد زبیری عدالت کو بتایا آئین کے آرٹیکل 175 کے مطابق کوئی بھی عدالت مقدمات سن سکتی ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا جوڈیشل کمیشن کے رولز میں آئین و قانون کا ذکر نہیں ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہاکہ رولز ہمیشہ ایکٹ کے تحت ہی بنتے ہیں، پہلے ایکٹ بنتا ہے اس کے بعدرولز بنتے ہیں، یہ کہہ رہے ہیں جوڈیشل کمیشن کے رولز میں آئین و قانون کا ذکر نہیں ہے، چیف جسٹس کا استفسار اس کا مطلب ہے کہ جوڈیشل کمیشن اپنے رولز خود بنائے گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون صرف سپریم کورٹ پر لاگو ہوتا ہے ہائیکورٹ یا فیڈرل شریعت کورٹ پر نہیں، عدالت ہائیکورٹ نے بھی قانون اور رولز سے متعلق فیصلہ دیا ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے ہائیکورٹ نے کہا کہ رولز بنانے کا اختیار صرف ہائیکورٹ کے پاس ہے،
فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ نے کہا رولز سے متعلق قانون سازی نہیں ہوسکتی، ہمیں یہ بتائیں کہ آرٹیکل 184/3 کا استعمال کیسے کیا گیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کیا رولز میں ہیومن رائٹس سیل کا بننا ہے؟
اس وقت ہزاروں کیسز میں 184/3 کا استعمال ہوا ہے کیا وہ صحیح ہے؟
اس آرٹیکل کا استعمال کیسے ہوا ، اس بارے میں آپ بتائیں، اگر ہم نے غلطی کی ہے تو اس کو درست کرنا چاہیے، اگر پارلیمنٹ کوئی غلطی کرتی ہے تو اس کو درست کرنا چاہیے، قاضی فائز
184/3کے استعمال پر سپریم کورٹ بار کا کیا موقف ہےاس پر معاونت کریں،
یہ حقیقت ہے کہ شق کا غلط استعمال ہوا، صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نےکہا پھر اس کا کوئی حل بھی بتادیں،چیف جسٹس کا صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری سے مکالمہ حل یہ ہے کہ آپ خود اس کو دیکھیں ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کا چیف جسٹس کو جواب ہزاروں مقدمات میں 184(3) کااستعمال کیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی 184(3)کا استعمال کیسے ہوا یہ ایک حقیقت ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اختیار بڑھا سکتی ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے سوال اچھے یا برے کا نہیں سوال قانون بنانے کی اہلیت کا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن کے ریمارکس سپریم کورٹ کے بارے میں قانون بنانے کاکس کا اختیار ہے ؟ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے یہ اختیار پارلیمان کا ہے یا نہیں، صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری انصاف کی فراہمی متاثر ہو رہی ہو تو بنیادی حقوق کی خلاف پر کیا قانون سازی ہو سکتی ہے؟ عدالت چیف جسٹس مقدمےکو سماعت کیلئے مقرر کرسکتے ہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیاکہ جبری گمشدگی جیسے مقدمات سماعت کے لیے کیوں مقرر نہیں کرسکتے، آپ نے ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کی رکاوٹ کو بھی عبور نہیں کیا،
قانون سازی سے کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ کا عابد زبیری سے سوال 184(3)میں ہم یہ مقدمہ کیسے سن سکتے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا استفسار آپ کہہ رہے ہیں نہ ہم اپنے دائرہ اختیار بڑھا سکتے ہیں نہ پارلیمان، ہمیں آپ کہہ رہے ہیں کہ 184(3) میں عدالت اپنا دائرہ اختیار بڑھا دے،
اس ایکٹ کو دیکھنے کیلئے پہلے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ دیکھنا ہے کہ کیا پارلیمان کا اس قانون کو بنانے کا اختیار ہے، عابد زبیری آپ نے شروع میں پارلیمان کی نیت پر حملہ کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیاکہ میں کہتا ہوں پارلیمان کی نیت اچھی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی قانون کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہم نے 184(3) کے اختیارات آئین سے ہٹ کر استعمال کیے، عدالت اگر سپریم کورٹ اپنی ڈومین میں رہے تو کیا کسی قانون کی ضرورت پڑے گی؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہاکہ اپنے رولز میں ترمیم سپریم کورٹ خود کر سکتی ہے پارلیمنٹ مداخلت نہیں کر سکتی، عابد زبیری اگر پارلیمنٹ یہ قانون بنا سکتی ہے تو کل کو کوئی بھی قانون بنا سکتی ہے، عابد زبیری ایک بار دروازہ کھل گیا تو اس کا کوئی سرا نہیں ہو گا، جسٹس اعجازالاحسن قانون سازی اچھی یا بری بھی ہو سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون سازی درست ہے تو ٹھیک ورنہ کالعدم قرار دے دیں، جسٹس اعجازالاحسن آئین اس طرح سے نہیں چل سکتا، جسٹس اعجازالاحسن ایک شخص آتا ہے اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ کر دیتا ہے، چیف جسٹس امریکا میں یہ سب نہیں ہوتا، ہمارا ماضی بہت بوسیدہ ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ بار خود تو درخواست لے کر نہیں آئی، چیف جسٹس سپریم کورٹ بار نے جو درخواستیں کیں وہ تو مقرر نہیں ہو رہیں، وکیل عابد زبیری اگر آپ کیس کو ختم کریں تو باقی مقرر ہوں، چیف جسٹس کا عابد زبیری سے مکالمہ ایکٹ میں آئین کی کون سے شق کا حوالہ دیا گیا ہے؟ جسٹس مسرت ہلالی ایسے تو سادہ اکثریت سے قانون سازی کا دروازہ کھولا جا رہا ہے، جسٹس مسرت ہلالی آئین میں سادہ اکثریت سے بلواسطہ ترمیم کر کے دروازہ کھولا جا رہا ہے، جسٹس منیب اختر کل کی باتیں نہ کریں آج کی صورتحال بتائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی آرٹیکل 184 تھری کے اختیار کو آئین میں رہ کر استعمال کیا گیا ہوتا تو قانون سازی نہ ہوتی، جسٹس جمال آپ نا مدعی ہیں نا مدعا علیہ توپھر اس ایکٹ کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل آرٹیکل 184 تھری میں اپیل سے اصل دائرہ اختیار کے کیس کی دوبارہ سماعت کا حق کیسے دے دیا گیا؟ جسٹس مظاہر وکیل عدنان خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل آپ ابھی تک مستقبل کا بتا رہے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ کا وکیل سے مکالمہ ابھی قانون سے آپ کا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ آپ اپنے کون سے بنیادی حق کا دفاع کر رہے ہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں ہے، وکیل عدنان خان اس سے تمام بنیادی حق متاثر ہوتے ہیں، وکیل عدنان خان ایکٹ سے انصاف تک رسائی کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہوئی، وکیل فوری مقرر ہونے والے مقدمات کا طریقہ کار دے کر سپریم کورٹ کی تضحیک کی گئی، وکیل ہم پہلے بھی کیس مقرر کرنے کے لیے اپنا دماغ استعمال کیا کرتے تھے،چیف جسٹس میں نے تو پہلے ہی کیس منیجمنٹ کمیٹی کو کیسز کے تقرر کا اختیار دیا ہے، چیف جسٹس کیا میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی بنا کر آئینی خلاف ورزی کی؟ چیف جسٹس حراستی مراکز سے متعلق پشاور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیل 4 سال سے زیر التوا ہے، جسٹس اطہر من اللہ اہم کیسز کے مقرر نہ ہونے پر قانون سازی کیوں نہیں ہو سکتی؟ جسٹس اطہر من اللہ اگر میں حراستی مراکز سے متعلق کیس مقرر نہیں کرتا تو آپ کے پاس کیا حل ہو گا؟ چیف جسٹس مشاورت اچھی چیز ہے اور چیف جسٹس اپنے ساتھیوں میں سے کسی سے بھی کر سکتے ہیں، وکیل قانون میں کہیں مشاورت کا درج نہیں ہے، وکیل عدنان خان کوئی ایسا قانون یا شرعی قانون ہے کہ اپیل کا کوئی حق نہیں ہے؟ چیف جسٹس قانون یا شرع کی رو سے کہاں درج ہے کہ قاضی کا فیصلہ آخری ہو گا؟ چیف جسٹس کوئی حوالہ دے دیجیے، چیف جسٹس کی وکیل کو ہدایت میں ریفرنس جمع کرا دوں گا، وکیل عدنان خان وکیل عدنان خان کی جانب سے دلائل مکمل میں نے تو پہلے ہی کیس منیجمنٹ کمیٹی کو کیسز کے تقرر کا اختیار دیا ہے، چیف جسٹس کیا میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی بنا کر آئینی خلاف ورزی کی؟ چیف جسٹس حراستی مراکز سے متعلق پشاور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیل 4 سال سے زیر التوا ہے، جسٹس اطہر من اللہ اہم کیسز کے مقرر نہ ہونے پر قانون سازی کیوں نہیں ہو سکتی؟ جسٹس اطہر من اللہ اگر میں حراستی مراکز سے متعلق کیس مقرر نہیں کرتا تو آپ کے پاس کیا حل ہو گا؟ چیف جسٹس مشاورت اچھی چیز ہے اور چیف جسٹس اپنے ساتھیوں میں سے کسی سے بھی کر سکتے ہیں، وکیل قانون میں کہیں مشاورت کا درج نہیں ہے، وکیل عدنان خان کوئی ایسا قانون یا شرعی قانون ہے کہ اپیل کا کوئی حق نہیں ہے؟ چیف جسٹس قانون یا شرع کی رو سے کہاں درج ہے کہ قاضی کا فیصلہ آخری ہو گا؟ چیف جسٹس کوئی حوالہ دے دیجیے، چیف جسٹس کی وکیل کو ہدایت میں ریفرنس جمع کرا دوں گا، وکیل عدنان خان وکیل عدنان خان کی جانب سے دلائل مکمل وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کے لیے وقت نہ دینے پر اعتراض اٹھادیا آپ نے کہا تھا کہ پہلے ہمیں سنیں گے پھر اٹارنی جنرل کو سنیں گے، امتیاز صدیقی ہمیں نا سننا ناانصافی ہے، وکیل درخواست گزار امتیاز صدیقی کہاں لکھا ہے حکمنامے میں کہ آپ کو ابھی سننا ہے؟ چیف جسٹس آپ ہمارے ساتھ اپنا سلوک دیکھیں،وکیل امتیاز صدیقی پچھلی سماعت کا تمام ججز کے دستخط کے ساتھ حکمنامہ جاری ہوا تھا، چیف جسٹس حکمنامے میں ہے کہ امتیاز صدیقی کے دلائل مکمل ہو چکے اور وہ مزید نہیں دیناچاہتے، چیف جسٹس میرے ساتھی خواجہ طارق رحیم آپ کے رویے کی وجہ سے آج عدالت نہیں آئے، وکیل خواجہ طارق رحیم نے آپ کو پیغام پہنچانے کا کہا ہے، وکیل امتیاز صدیقی سوالات کے جوابات بعد میں دیجئے گا پہلے اپنی دلیل مکمل کریں، چیف جسٹس فیڈرل لیجسلیٹیو لسٹ کی اینٹری 55، 59 کے ساتھ آرٹیکل 191 کو دیکھیں، وکیل عدالت نے جسٹس انور کیس میں آرٹیکل 188 سے متعلق کہا کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کم نہیں کیے جا سکتے، وکیل اسی فیصلے کے اگلے حصے میں کہا گیا کہ رولز کو بہتری کے لیے پارلیمنٹ بدل بھی نہیں سکتی، عدالت ایک جملے پر انحصار نہ کریں، پورا فیصلہ پڑھیں، جسٹس منیب اختر کی وکیل زاہد ابراہیم کو ہدایت جن فیصلوں کا حوالہ دیا وہ ان ضوابط سے متعلق ہیں جن کا اختیار پہلے سے قانون دیتا ہے، عدالت میرا قلم ہوا میں رہ جاتا ہے آپ پہلے اپنا پوائنٹ پورا کر دیں، چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ آپ فل کورٹ کو اپنی رائے بتا دیں، جسٹس یحیٰی آفریدی یہ کیس خود تسلیم کر رہا ہے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کر سکتی ہے، وکیل زاہد ابراہیم کیسے ممکن ہے کہ سبجیکٹ ٹو لاء لکھ کر پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ رولز پر قانون سازی کا اختیار دیا گیا ہو؟ جسٹس عائشہ ملک آرٹیکل 188 اور آرٹیکل 191 میں فرق ہے، جسٹس عائشہ ملک آرٹیکل 142 قانون سازی کے اختیارات دیتا ہے، زاہد ابراہیم ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیار کو بڑھایا گیا، وکیل زاہد ابراہیم بڑھایا اسی چیز کو جاتا ہے جو پہلے سے موجود ہو، جسٹس اعجاز الاحسن اپیل کا حق 184/3میں تو موجود ہی نہیں تھا، جسٹس اعجاز الاحسن آئین کے مطابق پارلیمان سپریم ہے اختیارات بڑھا سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن کیا ہم اختیارات بڑھانے کے لفظ کو پابندی کیلئے استعمال کریں گے؟ چیف جسٹس اختیارات کو بڑھانے کو آرٹیکل 175(2) کے ساتھ ملا کر پڑھیں گے یا نہیں، جسٹس محمد علی مظہر پارلیمنٹ کی جب مرضی ہوگی قانون بنائے گی کیا یہ آپکی دلیل ہے؟ جسٹس منیب اختر پارلیمان کل آرٹیکل (3)184 کو واپس لے سکتی ہے، چیف جسٹس یا تو کہیں پارلیمان ایسا کرنے کا اختیار نہیں رکھتی، چیف جسٹس آپ آرٹیکل 191 سے اینٹری 55 کا تعلق سمجھا دیں، جسٹس یحیٰی آفریدی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے ذریعے آئین میں بلاواسطہ ترمیم کی گئی، جسٹس منیب اختر کیا آئین پارلیمنٹ کو ایسی قانون سازی کی اجازت دیتا ہے؟ جسٹس منیب اختر آپ 1956 کا آئین پڑھیں، جسٹس منیب اختر قانون سازی کے اختیار کے تحت آرٹیکل 191 کہتا ہے رولز قانون سے بدلے جا سکتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ ضروری نہیں کہ آپ سب کے دلائل سے متفق ہوں، چیف جسٹس کا وکیل زاہد ابراہیم سے مکالمہ بینچ میں بیٹھے جج کو حق حاصل ہے کہ وہ سوال کرے، جسٹس منیب اختر پارلیمنٹ کو موجودہ قانون کا دائرہ بڑھانے کا اختیار ہے، جسٹس اعجازالاحسن اپیل کا حق دے کر قانون کا دائرہ بڑھایا کیسے گیا؟ جسٹس اعجازالاحسن قانون سازی سے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں کچھ شامل کیسے کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن دائرہ اختیار کو بڑھانے کو آرٹیکل 175(4) کے ساتھ ملا کر پڑھا جا سکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر آپ کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ کے پاس شروع سے رولز سے متعلق قانون سازی کا اختیار تھا، جسٹس منیب اختر اس قانون کے بعد ماسٹر آف روسٹر کون ہے؟ جسٹس منیب اختر کا وکیل زاہد ابراہیم سے سوال کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ ماسٹر آف روسٹر کون ہے ، وکیل زاہد ابراہیم نکتہ یہ ہے کہ کیس سمیت کسی بھی صورتحال میں پارلیمان ماسٹر آف روسٹر بن جائے گی،عدالت ماسٹر آف روسٹر کا لفظ کہاں لکھا ہوا ہے؟ چیف جسٹس کا وکیل زاہد ابراہیم سے سوال رولز میں چیف جسٹس کے بینچ مقرر کرنے کا ہے، چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر کا لفظ کس قانون میں ہے، چیف جسٹس دنیا میں اب کہیں بھی ماسٹر آف روسٹر کا لفظ نہیں، جسٹس منصور علی شاہ اگر ایک شخص کے پاس بینچز کی تشکیل کا اختیار ہے تو کیس کا نتیجہ متاثر کر سکتا ہے، جسٹس منصور علی شاہ اگر ایک شخص نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو تین بھی ہو سکتے ہیں، جسٹس منیب اختر یہ پیغام نہیں جانا چاہیے کہ آئین و قانون کا انحصار چیف جسٹس کی خواہشات پر ہے، چیف جسٹس آئین اور قانون چیف جسٹس کی خواہشات پر منحصر نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی یہ عدلیہ کیا آزادی اور قانون کے منافی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی میں ماسٹر نہیں آئین کے ماتحت ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد ابراہیم کے دلائل مکمل ن لیگی وکیل صلاح الدین کی جانب سے دلائل چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق سپریم کورٹ کے ججز کے حوالے سے بہت آراء آئی ہیں، وکیل آپ اپنے دلائل شخصیت کو مدنظر رکھ کر دے رہے ہیں، جسٹس مظاہر نقوی جو آرا دی گئی وہ انکی آرا ہوں گی، جسٹس منیب اختر بہتر ہو گا کہ پارلیمان کے اختیار پر دلائل دیں، جسٹس منیب اختر میں آپکو سننا چاہتا ہوں اپنے دلائل دیں، چیف جسٹس بینچز کی تشکیل اور مقدمات کا مقرر کرنا آئینی اختیار نہیں،وکیل صلاح الدین صلاح الدین کی جانب سے جسٹس(ر ) آصف سعید کھوسہ کے آرٹیکل کا حوالہ موجودہ بینچ کے 10 ممبران بھی چیف جسٹس کے اختیارات پر آواز اٹھا چکے، صلاح الدین کیا اس کا یہ مطلب ہے پارلیمنٹ کو اختیار مل گیا؟ جسٹس منیب اختر کیا پارلیمنٹ ماسٹر آف روسٹر ہے اس نکتے پر آئیں، جسٹس منیب اختر آپ جو دلائل دے رہے ہیں وہ کیا شخصیات کی حد تک ہیں؟ جسٹس مظاہرنقوی بینچ تشکیل کرنے کی پاور کوئی آئینی پاور نہیں ہے، وکیل صلاح الدین آپ نے 1861 کا انڈیا ایکٹ دیکھا؟ جسٹس منیب اختر کا وکیل سے سوال میں آپ کو بتاتا ہوں اس پاور کا آغاز وہیں سے ہوتا ہے، جسٹس منیب اختر برطانوی راج کا آغاز ہونے کے بعد 1861 میں پہلا قانون بنایا گیا، جسٹس منیب اختر آئینی تاریخ دیکھیں تو ماسٹر آف روسٹر کے معاملے میں مداخلت پر واٹر مارک ہے، جسٹس منیب اختر سوال ہے کہ ماسٹر آف روسٹر کون ہوگا؟ جسٹس منیب اختر دنیا بھر میں ماسٹرز کا دور ختم ہو چکا، جسٹس منصور علی شاہ اب ہمیں جاگ جانا چاہیے، جسٹس منصور علی شاہ امریکہ، برازیل سمیت کئی ممالک میں عدلیہ باہمی مشاورت سے امور چلاتی ہے، جسٹس منصور علی یہاں ماسٹرز آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، کوئی ہمیشہ نہیں رہتا ، جسٹس منیب اختر آئندہ سال اکتوبر میں ایک اور چیف جسٹس نے چلے جانا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کا نقصان ہوا ہم انہیں کیا جواب دیں گے، چیف جسٹس آئین اور قانون چیف جسٹس پاکستان کی خواہشات کے تابع نہیں ، چیف جسٹس اگر ایسا ہوا تو یہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے تباہ کن ہوگا، چیف جسٹس ہم ماسٹرز نہیں بلکہ آئین اور عوام کے نوکر ہیں، چیف جسٹس پاکستان چیف جسٹس کو آئین و قانون سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ متعدد چیف جسٹس اور ججز آرٹیکل 184 شق3 کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کر چکے ، وکیل صلاح الدین کیا اس بنیاد پر پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دیا جاسکتا ہے، جسٹس منیب اختر پاکستان بار کونسل 10سال سے چیف جسٹس کے اختیارات ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کر رہی ، وکیل ن لیگ ہم 1947میں آزاد ہو چکے ہیں، چیف جسٹس پاکستان دیکھتے ہیں بھارتی سپریم کورٹ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر کیا فیصلہ دیتی ہے، چیف جسٹس یہ ایکٹ سپریم کورٹ کو ڈکٹیشن دے رہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن ایکٹ کہتا ہے اتنے رکنی کمیٹی ہو ،اتنے رکنی بینچ بنائے، جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کو ڈکٹیٹ کرنا کہ بزنس کیسے چلاو، یہ عدلیہ میں مداخلت نہیں تو کیا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن کیا پارلیمنٹ قانون سازی کی مجاز ہے یا نہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ اگر پارلیمنٹ مجاز ہے تو پھر اسے ڈکٹیشن نہ کہیں، جسٹس اطہر من اللہ ایکٹ کے ذریعے چیف جسٹس کے ساتھ دو کو پائلٹس ہی لگائے گئے ہیں ، چیف جسٹس ہم اپنے سائے اور کو پائلٹس سے گھبراتے کیوں ہیں؟ چیف جسٹس سوال یہی ہے پارلیمنٹ اس قانون سازی کی مجاز ہے یا نہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت صرف دو لوگ روسٹرم پر رہیں باقی بیٹھ جائیں ، چیف جسٹس عامر فاروق درخواست پر اوپن کورٹ میں سماعت کا آرڈر دیا ہے، چیف جسٹس اگر کوئی چیز حساس ہو تو پھر وکلا کی مشاورت سے اِن کیمرہ دلائل سنیں گے، چیف جسٹس اس ایکٹ کے اندر کسی جگہ سائفر کا ذکر نہیں ،سلمان صفدر آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں چودہ سال قید یا موت کی سزا ہے، بیرسٹر سلمان صفدر کسی دشمن ملک سے سائفر شیئر نہیں کیا، قومی سلامتی کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کیا، وکیل آپ دشمن ملک کس کو کہیں گے؟ چیف جسٹس عامر فاروق کا وکیل سے سوال بدنیتی کی بنا پر قانون میں نئی ترمیم کی گئی، وکیل سلمان صفدر آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں ترامیم چیلنج بھی کی جا چکی ہیں ، وکیل سلمان صفدر ماضی میں کبھی بھی صرف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل نہیں ہوا، سلمان صفدر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے7 مختلف کیسز کے حوالہ جات پیش چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی بینچز سے متعلق جو شکایات اور مسائل سپریم کورٹ کو ہیں وہ ہائیکورٹس میں نہیں دیکھے، چیف جسٹس کیا یہ کہا جائے ہائیکورٹس سپریم کورٹ سے بہتر چل رہی ہیں، چیف جسٹس یہ ہائیکورٹ ٹو ہائیکورٹ اور چیف جسٹس ٹو چیف جسٹس دیکھا جا سکتا ہے، بیرسٹر صلاح الدین یہ نہیں کہا جا سکتا پارلیمنٹ نے بدنیتی سے یہ کر دیا ،آوازیں تو وکلا اٹھا رہے تھے، چیف جسٹس سابق چیف جسٹس صاحبان کیخلاف باتیں اٹھائی جائیں اس پر شدید تحفظات ہیں ، جسٹس منیب اختر جو یہاں اپنا دفاع کرنے موجود نہیں ان کا معاملہ نہ اٹھایا جائے، جسٹس منیب اختر آپ پہلے پارلیمنٹ کے اختیارِ قانون سازی پر بات کریں، جسٹس اطہر من اللہ آرٹیکل 191 قانون سازی کو قبول کرتا ہے، بیرسٹر صلاح الدین پہلے لوگ دوسروں کے دلائل اپنایا کرتےتھے، اب ویسا نہیں ہو رہا ، چیف جسٹس براہ راست کارروائی نشر ہو رہی ہے اس لیے ایسا نہیں ہورہا، بیرسٹر صلاح الدین مجھے قانون سازی پر بہت زیادہ تحفظات ہیں، جسٹس منیب اختر پارلیمنٹ کو ماسٹر آف دی روسٹر بنانا عدلیہ کی خودمختاری کیخلاف ہے، جسٹس منیب اختر پارلیمنٹ کی قانون سازی سے عدلیہ کی خودمختاری کو مزید تقویت ملی ہے، وکیل ن لیگ کوئی وکیل کسی دوسرے وکیل کے دلائل کو کیوں نہیں اپنا رہا، چیف جسٹس کیوں کہ عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات دکھائی جا رہی ہیں، وکیل ن لیگ کیوں نہ عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات دکھانا روک دیں، چیف جسٹس پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کرنے کا اختیار حاصل ہے، وکیل بیرسٹر صلاح الدین صلاح الدین صاحب آپ ابھی کتنا وقت لیں گے، چیف جسٹس مزید 10 منٹ لوں گا،وکیل صلاح الدین پھر آج سماعت کے دوران دلائل دینے والے آپ آخری وکیل ہونگے چیف جسٹس ہم سماعت کل ساڑھے11 تک ملتوی کرینگے، چیف جسٹس سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ تک محدود کر دیا گیا، جسٹس منیب اختر پارلیمنٹ پاکستان کے عوام کی نمائندہ ہے، جسٹس منصور علی شاہ کیا عوام نہیں کہہ سکتے کورٹ کیسے چلے وہ تو اصل ٹرسٹی ہیں، جسٹس منصور علی شاہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ایکٹ کو ماننے سے غلط قانون سازی کا راستہ کھلے گا،وکیل کل کو کوئی خلاف آئین قانون بنا تو عدالت کالعدم کر سکتی ہے، بیرسٹر صلاح الدین پارلیمنٹ کا اختیار ہونا نہ ہونا اور قانون سازی کی آئین سے مطابقت الگ چیزیں ہیں، وکیل ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے، چیف جسٹس اس کے باوجود ہائیکورٹ کے اندر ہی انٹراکورٹ اپیل کا حق بھی دیا گیا، چیف جسٹس صلاح الدین آج آپ آخری وکیل ہیں، چیف جسٹس باقی وکلا کو کل دن ساڑھے11بجے سنا جائے گا، چیف جسٹس عدلیہ کی آزادی سپریم کورٹ اور ضلعی عدالتوں کیلئے ایک ہی ہے، بیرسٹر صلاح الدین ماتحت عدلیہ سے متعلق قانون سازی کا واضح اختیار دیا گیا ہے، جسٹس منیب اختر میں عدلیہ کی آزادی کی بات کر رہا ہوں ، وکیل بیرسٹر صلاح الدین کیا دنیا میں کوئی مثال ہے پروسیجرل قانون میں رول بنانے کی پاور دی گئی ہو؟ جسٹس شاہد وحید ماسٹر آف روسٹر پارلیمنٹ نہیں ، بیرسٹر صلاح الدین احمد قانون بنانے کا اختیار وفاقی حکومت کو ہے تو پھر ماسٹر آف روسٹر تو وہی ہے، جسٹس منیب اختر کل کو پارلیمنٹ اختیارات کو کسی اور طرح بھی بدل سکتی ہے، جسٹس منیب اختر آپ نے جو مثالیں پیش کیں وہ الگ نوعیت کی ہیں، جسٹس عائشہ ملک کسی اور عدالت کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دینا الگ بات ہے، جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کے اپنے آرڈر کیخلاف اپیل کا حق دینا الگ معاملہ ہے، جسٹس عائشہ ملک آئین میں ترمیم سادہ قانون سازی سے کیسے کی جا سکتی ہے؟ جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ کیس کی سماعت کل ساڑھے11بجےتک ملتوی آج عدالت نے سپریم کورٹ بار کے صدر کے دلائل سنے، آرڈر عابد زبیری نے اپنے دلائل مکمل کئے،آرڈر اس کے علاوہ3وکلا کے بھی دلائل سنے گئے،آرڈر ن لیگ اور ق لیگ کی جانب سے بھی وکلا نے دلائل دیئے،آرڈر