کراچی سمیت سندھ میں رواں سال نگلیریا سے اموات کی تعداد 8 ہوچکی ہے۔ دماغ خور جرثومہ گزشتہ 5 سالوں میں بھی 50 سے زائد جانیں لے چکا ہے۔ 2019 میں نگلیریا سے سب سے زیادہ 22 اموات ہوئی تھیں ، دماغ خور جرثومہ نگلیریا فاؤلیری اگر ناک میں داخل ہوجائے تو جان لیکر ہی چھوڑتا ہے۔ نگلیریا نے گزشتہ روز ضلع وسطی میں بھی اپنا پہلا شکار کیا ہے۔ جہاں نیوکراچی کا نگلیریا سے متاثرہ 45 سالہ شخص جانبر نہ ہوسکا۔ 2023 کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سندھ میں نگلیریا سے 8 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ مئی کے مہینے میں قیوم آباد، سرجانی اور گلشن کے علاقوں سے اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔ ڈی ایچ اے سے تعلق رکھنے والا 21 سالہ نوجوان بھی جولائی کے مہینے میں جانبحق ہوا تھا۔ اسی سال ایک ہلاکت حیدرآباد اور ایک کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے شخص کی ہوئی تھی۔ ماضی پر نظر ڈالیں تو 2017 میں نگلیریا کے 7 کیسز سامنے آئے۔ 2018 میں بھی نگلیریا سے 7 اموات ہوئیں۔ 2019 میں نگلیریا سے سب سے زیادہ 22 اموات رپورٹ ہوئیں۔ 2020 میں کورونا کے سبب اموات کی شرح نا ہونے کے برابر تھی۔ صرف ایک شخص نگلیریا کا شکار ہوا۔ 2021 میں سات جبکہ 2022 میں آٹھ افراد نگلیریا کے سبب جان سے گئے۔