پشاور کی رہائشی محمد ارشاد کی اہلیہ نے مبینہ الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخو اپولیس کے ایس
پی رینک کے افسر محمد عارف انہیں اپنے شوہر سے طلاق لینے اور اپنے ساتھ شادی کرنے
پر مجبور کر رہا ہے اور نہ ماننے پر گزشتہ کئی سال سے زہنی اور جسمانی تشدد کا
نشانہ بنارہا ہے۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے
خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا چند سال قبل وہ اپنے کسی گھریلو مسئلے کی وجہ سے محمد
عارف کے پاس گئے تھے ، تب وہ پشاور صدر میں ڈی ایس پی تھے، بعدازاں محمد عارف نے
ان کے شوہر کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنا کر ان کے گھر انا شروع کردیا،
کچھ عرصے تک یہ سلسلہ چلتا رہا ،پھر
محمد عارف نے ان میں دلچسپی لینا شروع کردیا اور پھر آخر میں مجھے اپنبے شوہر سے
طلاق لینے کو کہا تاکہ وہ میرے میرے ساتھ شادی کرسکے،
محمد ارشاد کی اہلیہ نے کہا کہ میرے انکار کے
بعد انہوں نے میرے شوہر پر دباو ڈالنا شروع کیا یہاں تک کہ میرا خاوند مجھے طلاق دینے
پر بھی امادہ ہوگیا تاکہ اپنی اور بچوں کی جان بچاسکے،
لیکن اس مرحلے پر ایس پی محمد عارف شادی کی بات
سے پیچھے ہٹ گیا ،اور میرے ساتھ تعلقات پر اصرار کرنے لگا،میں نے انہیں ہر ممکن طریقے
سے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ میرا پیچھا چھوڑ دے ،
اکثر اوقات وہ میرے گھر آکر مجھے ڈراتا
دھمکاتا تھا ،
جس پر میں گزشتہ دنون ان کے گھر جا کر
ان کی بیوی سے کہا کہ وہ اپنے شوہر کو سنبھالے ، اس پر محمد عارف نے مجھے اپنے بیوی
اور بیٹی کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا ،
میں زخمی حالت میں سنٹرل پولیس آفس گئی،جہاں
ایس پی انیلہ ناز نے مجھے چمکنی تھانہ جانے کو کہا میں جب تھانے پہنچا تو تھانے کے
عملے نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے سینئر افسر کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے،محمد ارشاد کی
اہلیہ نے انسپکٹر جنرل پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایس پی عارف کے ظالمانہ طرز عمل کا
نوٹس لیا جائے اور انہیں ان کے شوہر اور بچوں کو
تحفظ فراہم کیا جائے۔