سپریم کورٹ، پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت میں وقفہ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے ہمیں علم ہے کہ آج آخری دن ہے ،وکیل پی ٹی آئی علی ظفر ہمیں آرڈر بھی دینا ہے ، چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کا علی ظفر کوجواب پشاور ہائیکورٹ کا حکمنامہ آ گیا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کا سوال کیا آپ نے فیصلہ پڑھ لیا ؟ چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کا علی ظفر سےسوال جی پشاور ہائیکورٹ کا حکمنامہ پڑھ لیاہے ،پی ٹی آئی وکیل علی ظفر 8فر یقین کی نمائندگی کررہا ہوں،پی ٹی آئی وکیل علی ظفر انٹرا پارٹی الیکشن کا جائزہ لینے اور کالعدم قراردینے کاالیکشن کمیشن کےپاس کوئی اختیار نہیں ،وکیل الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں کہ وہ بے ضابطگی کا الزام لگاکرنشان الاٹ نہ کرے،وکیل سیاسی جماعت ایک نشان پر آئین کے مطابق الیکشن میں حصہ لیتی ہے، علی ظفر سیاسی جماعت کو نشان الاٹ نہ کرنا آئین کی شق 17/2 کی خلاف ورزی ہے،وکیل الیکشن کمیشن کورٹ آٖف لا نہیں ہے،پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نشان انٹرا پارٹی انتخابات کی وجہ سے نہیں روکا جاسکتا،وکیل آرٹیکل 17 دو طرح سیاسی جماعتیں بنانے کا اختیار دیتا ہے، وکیل علی ظفر سپریم کورٹ بھی آرٹیکل 17 دو کی تفصیلی تشریح کر چکی ہے، وکیل علی ظفر انتخابات نشان کے ساتھ لڑنا سیاسی جماعت کے حقوق میں شامل ہے، وکیل میری گزارش سیاسی پارٹی کی بنیادی حقوق سے متعلق بھی ہے، علی ظفر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے، علی ظفر الیکشن کمیشن نے بلے کا نشان چھین کر بظاہر بدنیتی کی ہے، علی ظفر الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے،پی ٹی آئی وکیل علی ظفر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سےجانبدارانہ اور بدنیتی پر مبنی سلوک کیا، علی ظفر الیکشن کمیشن عدالت نہیں جو شفاف ٹرائل کا حق دے سکے، وکیل علی ظفر الیکشن کمیشن میں کوئی ٹرائل ہوا ہی نہیں، پی ٹی آئی وکیل علی ظفر پی ٹی آئی کے کسی رکن نے انٹرپارٹی انتخابات چیلنج نہیں کیے، وکیل علی ظفر انٹراپارٹی انتخابات صرف سول کورٹ میں ہی چیلنج ہوسکتے تھے، وکیل پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے پاس سوموٹو اختیار نہیں کہ خود فیصلہ بھی کرے اور اپیلیں بھی، وکیل انٹرا پارٹی انتخابات جماعت کے آئین کے مطابق کرائے گئے ہیں، بیرسٹر علی ظفر پی ٹی آئی نے 2022 میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جو الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیے، وکیل الیکشن کمیشن نے 20 دن میں انتخابات کرانے کا حکم دیا، وکیل علی ظفر خدشہ تھا پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہر نہ کر دیا جائے اس لیے عملدرآمد کیا، وکیل سپریم کورٹ اسی دوران 8 فروری کو انتخابات کا حکم دے چکی تھی، وکیل پی ٹی آئی دو دسمبر کو پی ٹی آئی نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے، وکیل علی ظفر ہر انتخابات میں کوئی نہ کوئی شکایت کرتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی یہ بہت کم ہوا ہو گا کہ کسی نے شکایت نہ کی ہو، چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی الیکشن کمیشن میں پارٹی انتخابات کیخلاف 14 درخواستیں دائر ہوئیں، وکیل ہمارا بنیادی موقف تھا کہ درخواست گزارپارٹی ممبر نہیں ہیں، وکیل علی ظفر الیکشن کمیشن نے اپنے 32 سوالات بھیجے جن کا تحریری جواب دیا، وکیل پی ٹی آئی جواب ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیکر ا نشان واپس لیا، وکیل الیکشن کمیشن کا حکم نامہ میں تسلیم شدہ ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تھے، علی ظفر الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کسی بے ضابطگی کا ذکر نہیں کیا، وکیل علی ظفر یہ مت کہیں کہ درخواست گزار ممبر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کا وکیل سے مکالمہ میں کیسے جان سکتا ہوں کہ آپ ممبر ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا علی ظفر سے مکالمہ الیکشن کمیشن نے اپنے 32 سوالات بھیجے جن کا تحریری جواب دیا، وکیل پی ٹی آئی الیکشن کمیشن نے اپنے 32 سوالات بھیجے جن کا تحریری جواب دیا، وکیل پی ٹی آئی کیا انٹرا پارٹی الیکشن میں شفافیت تھی، کون لڑ سکتا تھا، کون نہیں؟جسٹس محمد علی مظہر سپریم کور ٹ میں دوران سماعت لیول پلیئنگ فیلڈ کا تذکرہ آپ کی پارٹی میں بھی تو لیول پلیئنگ فیلڈ ہونی چاہیے، جسٹس محمد علی مظہر جو الیکشن لڑنا چاہتا ہو اسے بھی موقع ملنا چاہیے، جسٹس محمد علی مظہر یہ اُن کا نصیب ہے کہ منتخب ہوتے ہیں یا نہیں، جسٹس محمد علی مظہر الیکشن کمیشن نے فیصلے کی جو وجوہات دی ہیں وہ عجیب ہیں، وکیل علی ظفر انتخابات کو درست کہا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی غلط قرار دی، وکیل کہاگیا تعیناتی درست نہیں اس لیے انتخابات تسلیم کرینگے نہ ہی نشان دینگے، وکیل گزشتہ روز مخدوم علی خان نے تکنیکی نوعیت کے اعتراضات کیے تھے، وکیل علی ظفر وکیل الیکشن کمیشن مخدوم علی خان کا نکتہ پارٹی کے اندر جمہوریت کا تھا، وکیل علی ظفر جمہوریت ملک کیساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ہونی چاہیے، چیف جسٹس بنیادی سوال جمہوریت کا ہے پارٹی آئین پر مکمل عملدرآمد کا نہیں، چیف جسٹس کم از کم اتنا تو نظر آئے کہ انتخابات ہوئے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اکبر بابر بانی رکن تھے وہ پسند نہیں تو الگ بات لیکن انکی رکنیت تو تھی، چیف جسٹس صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ درخواست گزار پارٹی رکن نہیں تھے، چیف جسٹس اکبر بابر نے اگر استعفٰی دیا یا دوسری پارٹی میں گئے تو وہ بھی دکھا دیں، چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو اس وقت نوٹس کیا جب وہ حکومت میں تھی، چیف جسٹس الیکشن ایکٹ کی آئینی حیثیت پر تبصرہ نہیں کرینگے کیونکہ کسی نے چیلنج نہیں کیا، چیف جسٹس الیکشن ایکٹ کو ہم بھی چیلنج نہیں کر رہے، وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کیا پی ٹی آئی نے اپنا جاری کردہ شیڈول فالو کیا تھا؟ جسٹس محمد علی مظہر الیکشن کمیشن نے ازخود تو کارروائی نہیں کی شکایات ملنے پر کی، جسٹس محمد علی مظہر الیکشن کمیشن نے ایسی کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی، وکیل علی ظفر تمام سوالات کے جواب دستاویزات کے ساتھ دوں گا، وکیل علی ظفر انتخابی نشان کیا ہوتا ہے اچھے سے معلوم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پیپلزپارٹی سے ماضی میں تلوار کا نشان لیا گیا، پھر پی پی پارلیمنٹیرین بنی، وکیل علی ظفر ن لیگ نے ابھی ایسا ہی وقت دیکھا لیکن اس وقت حکومت میں کون تھا یہ بھی دیکھنا ہے، چیف جسٹس آج پی ٹی آئی کے مخالفین حکومت میں نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اسٹیبلشمنٹ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اصل نام فوج ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے 1989 میں بے نظیر بھٹو کیس کا حوالہ دیا پارٹی کے نشان سے متعلق سپریم کورٹ کے 12 رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا ،علی ظفر ہم کیس کا جائزہ لینگے لیکن اس میں انٹر اپارٹی الیکشن کا ذکر نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سیاس پارٹی کو نشان کی الاٹمنٹ ملک بھر کے تمام ووٹرز کا بھی حق ہے، علی ظفر یہاں سوال صرف انٹراپارٹی الیکشن کاہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی دلائل انٹراپارٹی الیکشن پر مرکوز رکھیں تو آسانی ہوگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی ،تاریخ کیلئے ایک ہی دن مقرر کیا گیا، جسٹس محمد علی مظہر کاغذات نامزدگی کہاں سے ملیں گے، کیسے ملیں گے، ویونیو کہاں ہے، جسٹس محمد علی مظہر تحریک انصاف کا آئین بہت اچھا ہے اور جامع ہے، جسٹس محمد علی مظہر الیکشن کمیشن نے یہ نہیں کہا انٹرا پارٹی الیکشن میں کیا طریقہ کار اپنایا گیا، علی ظفر ہم ایوب خان کے دور سے شروع کر دیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی پہلے غیر جماعتی الیکشن ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی ہم ان حقائق سے آگاہ ہیں اس وقت کس کی حکومت تھی، چیف جسٹس پی سی او کے حلف کو بھی چیلنج نہیں کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی یہ نہیں کہہ سکتے کہ پی سی او کا اطلاق آج بھی ہو سکتا ہے، چیف جسٹس آپ یہ بھی الزام نہیں لگا رہے کہ آپ کے مخالف حکومت میں ہیں، چیف جسٹس الیکشن کمیشن نے جب کارروائی شروع کی اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی، چیف جسٹس کیا آپ حقائق میں بدنیتی کے الزام کو واپس لے رہے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی میں حقائق میں الیکشن کمیشن کی بدنیتی کے الزام کو واپس لیتا ہوں، وکیل پی ٹی آئی علی ظفر انتخابی نشان بنیادی حق ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سیاسی جماعت وہ ہوتی ہے جن کو لوگ کنٹرول کرتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کل کچھ جاسوس کسی سیاسی جماعت میں گھس جائیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی ایک کاغذ کا ٹکڑا پیش کرکے یہ نہیں کہہ سکتے کہ الیکشن ہو گئے، چیف جسٹس الزام یہ ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن محض کاغذ کا ٹکڑا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی جس بے ضابطگی کی نشاندہی کی گئی وہ پی ٹی آئی آئین سے ہی کی گئی، جسٹس محمد علی مظہر الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول اور مقام پر کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی، وکیل علی ظفر بنیادی بات یہ ہے کہ پارٹی میں الیکشن ہوا ہے یا نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اکبر بابر کو الیکشن لڑنے دیتے سپورٹ نہ ہوتی تو ہار جاتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سابق چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کل سابق چیئرمین پی ٹی آئی باہر آ کر کہ دیں کہ یہ عہدیدار کون ہیں تو کیا ہوگا؟ چیف جسٹس پی ٹی آئی کو اپنے ساڑھے8 لاکھ ممبران پر اعتماد کیوں نہیں ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی بنیادی نکتہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے اگر وہ ہی نہ ہوا تو باقی چیزیں ختم ہو جائیں گی، جسٹس محمد علی مظہر اگر انتخابات باقاعدہ طریقے کار سے کرائے ہیں تو انتخابی نشان ہر صورت ملنا چاہیے، چیف جسٹس انتخابات کی پیچیدگیوں میں نہ جائیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیا انٹرا پارٹی انتخابات میں تمام پارٹی اراکین کو یکساں موقع ملا یا نہیں؟چیف جسٹس الیکشن کمیشن کو ایک کاغذ کا ٹکرا دکھا کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ لو انتخابات کرا دیئے، چیف جسٹس یہ دیکھنا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن مروجہ طریقہ کار سے ہوئے یا نہیں، چیف جسٹس انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین کے تحت نہیں ہوتے تو جماعت کا آئین کیا کہتا ہے؟جسٹس مسرت ہلالی اگر الیکشن میں کوئی بے ضابطگی ہے تو الیکشن کمیشن کو جانچنے کا حق نہیں ہے، علی ظفر اگر کسی کو ہمارے انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتراض ہے تو سول کورٹ جائیں، علی ظفر الیکشن ایکٹ کے مطابق سیاسی جماعت نے پارٹی الیکشن کے 7 دن میں سرٹیفکیٹ دینا ہے، وکیل سرٹیفکیٹ پارٹی آئین کے مطابق انتخابات سے مشروط ہے، جسٹس مسرت ہلالی الیکشن کمیشن کو انٹراپارٹی انتخابات کی اسکروٹنی کا اختیار نہیں ہے، وکیل علی ظفر اصل مسئلہ ہی دائرہ اختیار کا بنا ہوا ہے، جسٹس محمد علی مظہر الیکشن کمیشن یہ کہہ رہا ہے کہ5 سال سے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائے گئے ،چیف جسٹس یہ اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں کہ انٹراپارٹی الیکشن کالعدم قرار دے، علی ظفر الیکشن کمیشن کا ایک ہی دکھڑا ہے کہ پارٹی انتخابات کرا لو، چیف جسٹس پارٹی الیکشن کرائے لیکن وہ الیکشن کمیشن مانے نہیں، بیرسٹر علی ظفر چودہ درخواست گزاروں کو الیکشن کیوں نہیں لڑنے دیا ؟چیف جسٹس کسی کو اعتراض ہے تو سول کورٹ چلا جائے، وکیل علی ظفر ہم جمہوریت کیساتھ کھڑے ہیں چاہے وہ گھر میں ہو یا باہر ہو، چیف جسٹس کوئی پٹواری انٹراپارٹی الیکشن کا فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ اسے اختیار نہیں ہے، وکیل قانون میں ہے کہ سیاسی پارٹی وقت پر انتخابات نہیں کراتی تو جرمانہ ہوسکتا ہے،چیف جسٹس یہ کہیں نہیں لکھا کہ آپ جرمانہ جمع کراتے جائیں اور انتخابات نہ کرائیں ،چیف جسٹس یا تسلیم کر لیں جمہوریت چاہیے یا نہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ گھر میں جمہوریت چاہیے باہر نہیں چاہیے، چیف جسٹس آپ کو سیاست چاہیے جمہوریت نہیں چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سیاست تو ہے ہی جمہوریت،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی گزشتہ روز آپ نے بتایا کہ پشاور کے علا قے چمکنی میں الیکشن ہوئے،جسٹس مسرت ہلالی چمکنی میں لوگ کیسے جمع ہوئے وہ تو ایک چھوٹا علاقہ ہے، جسٹس مسرت ہلالی میں اس طرف جانا نہیں چاہتا تھا لیکن میں بتا رہا ہوں ، علی ظفر پی ٹی آئی سیاسی پارٹی رہنما کی قیادت میں موجود ہے، علی ظفر ہم عمومی طور پر اسٹیبلشمنٹ کا لفظ استعمال کر دیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی دیانت داری کے ساتھ فوج کا لفظ استعمال کیوں نہیں کرتے؟چیف جسٹس مبینہ طور پر آج فوج کی مداخلت نظر نہیں آرہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی آپ یہ الزام لگا سکتے ہیں کہ فوج مداخلت کر رہی ہے،چیف جسٹس آپکی درخواست پر 12دن میں انتخابات کی تاریخ دی گئی،چیف جسٹس آپ کی جماعت خوش تھی سب خوش تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی آج پاکستان میں عدالتوں تک رسائی حاصل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی درخواست دائر نہیں کر سکتا، چیف جسٹس جب آپ حکومت میں تھے ہمیں وہاں بھی جانا ہو گا، چیف جسٹس جب آپ کو الیکشن کمیشن نے پہلا نوٹس جاری کیا، چیف جسٹس میڈیا میں آ کر الزامات لگا دینے سے آئینی ادارے کمزور ہوتے ہیں، چیف جسٹس اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ الزامات نہ لگائیں اگر وہ سچے ہیں، چیف جسٹس جب آپ حکومت میں تھے الیکشن کمیشن نے آپ کو نوٹس کیا تھا، چیف جسٹس ہمیں دیکھنا ہو گا اس وقت کیا بدنیتی کی گئی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی ہمیں اس بات کا اندازہ لگانے کیلئے پوری ٹائم لائن دیکھنا ہو گی، چیف جسٹس یہ الزام لگا دینا اسٹیبلشمنٹ الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہورہی ہے اس بات کو سنیں گے، چیف جسٹس اگر سوال یہ اٹھتا ہے انہیں اس وقت یہ سب کیسے معلوم تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اس اسٹیبلشمنٹ پر اس وقت آپ کا یہ الزام نہیں ہو گا کہ یہ الیکشن کمیشن سےملے ہوئے ہیں ،چیف جسٹس اگر آپ اسے ڈرامائی اور سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں تو پورا متن بیان کریں، چیف جسٹس جب انٹرا پارٹی الیکشن میں سب بلامقابلہ بھی ہو جائیں تب بھی اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا، علی ظفر بڑے بڑے عہدوں پر سب جانتے ہیں سیاسی جماعتوں پر کون عہدیدار ہیں، چیف جسٹس چھوٹے عہدوں پر تو لوگوں کو موقع ملنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی جب انٹرا پارٹی الیکشن ہی بلامقابلہ ہوا تو لوگ کیوں جمع ہوئے؟جسٹس مسرت ہلالی جب ایک پینل دیاگیا تو احترام میں کوئی مقابلے میں نہیں آیا، علی ظفر اگر آپ8 فروری کو 326 اراکین کو بلامقابلہ جتوا کر لے آئیں ایسے الیکشن کو میں نہیں مانتا، چیف جسٹس لولی لنگڑی جمہوریت نہیں پوری جمہوریت ہونی چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی بس بہت ہ گیا،عقل و دانش بھی کوئی چیز ہوتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کوئی پارٹی الیکشن کرائے بغیر سرٹیفکیٹ دیدے تو کیا الیکشن کمیشن کچھ نہیں کر سکتا؟ جسٹس مسرت ہلالی الیکشن ایکٹ میں پارٹی انتخابات کی شفافیت کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں ہے، وکیل علی ظفر انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن 2 لاکھ روپے تک جرمانہ کر سکتا ہے؟ وکیل علی ظفر پی ٹی آئی انتخابات کروا کر جرمانے کی اسٹیج سے تو آگے نکل چکی ہے، جسٹس محمد علی مظہر پی ٹی آئی کے سربراہ کون ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی بیرسٹر گوہر پارٹی کے چیئرمین ہیں، وکیل علی ظفر بیرسٹر گوہر کا اپنا الیکشن ہی سوالیہ نشان بن گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سابق چیئرمین پی ٹی آئی سرٹیفکیٹ دیتے تو اور بات تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سرٹیفکیٹ پارٹی سربراہ نے دینا ہوتا ہے سابق سربراہ نے نہیں، وکیل علی ظفر پارٹی انتخابات کے وقت چیئرمین کون تھا؟ جسٹس مسرت ہلالی پارٹی انتخابات ہوئے سابق چیئرمین ہی سربراہ تھے، علی ظفر کا جواب الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ہے تو پھر کس کا ہے؟ چیف جسٹس اکبر ایس بابر ممبر نہیں ہیں انہیں نکال دیا ، وکیل علی ظفر آپ ہمیں دکھائیں ریکارڈ سے وہ ممبر نہیں، چیف جسٹس میں آپ کو وہ دستاویز دکھا دیتا ہوں، وکیل علی ظفر سرٹیفکیٹ اسی وقت مل سکتا ہے جب الیکشن پارٹی آئین کے مطابق ہوں ، جسٹس مسرت ہلالی پی ٹی آئی آئین کہتا ہے چیئرمین کا الیکشن 2 سال ،باقی3 برس بعد ہوں گے، چیف جسٹس یہاں تک تو پارٹی آئین کی خلاف ورزی ثابت ہوگئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی میرا بیان یہی ہے اکبر ایس بابر ممبر نہیں ہیں، وکیل علی ظفر مجھے ہدایات یہی ملی ہیں کہ اکبر ایس بابر ممبر نہیں، وکیل علی ظفر آپ کو ہدایات کون دے رہا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی مجھے پارٹی سربراہ ہدایات دے رہے ہیں، وکیل علی ظفر وہ ہدایت دے رہے ہیں جنہوں نے 2سال پہلے پارٹی جوائن کی ؟ چیف جسٹس ہمارا بنیادی سوال ہے کہ یہ بتا دیں کہ انتخابات ہوئے ہیں ؟ چیف جسٹس پہلے پیپلز پارٹی میں تھا اس سےا لیکشن بھی لڑا تھا ،بیرسٹر گوہر کا علی ظفر کوآگاہی بیرسٹر گوہر بتا رہے ہیں وہ کسی اور پارٹی میں تھے ،علی ظفر انگلینڈ میں وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے انٹرا پارٹی الیکشن ہوتے ہیں، چیف جسٹس برطانیہ میں پہلے کیمرون وزیراعظم تھے پھر جانسن آئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے پھر خاتون وزیراعظم آئیں اُنہیں مسترد کر دیا، چیف جسٹس اب وزیراعظم رشی سونک ہیں، سب اپنی پارٹی کے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اُن کی ایک دوسرے سے مخالفت ہوئی،بیان بازی ہوئی، ٹی وی پر بھی آیا، چیف جسٹس کو کاغذ کے ٹکڑے پر کہتے کہ رشی سونک وزیراعظم بن گئے تو کیا لوگ تسلیم کر لیتے؟عدالت جمہوریت ہمیشہ گھر سے ہوتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سب نے الیکشن ہوتے دیکھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی ہم آپ کے ساتھ ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی الیکشن کمیشن کے تکنیکی الزامات مسترد کر دیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی آپ صرف بتا دیں کہ الیکشن ہوئے ہیں؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی آپ کے الیکشن سے متعلق تفصیلات ویب سائٹ پر بھی نہیں، جسٹس مسرت ہلالی کس طرح مخصوص لوگوں کو علم ہوا کہ یہ کاغذات نامزدگی ہیں اور کب جمع کرانا ہیں؟ عدالت جس کے پاس لیپ ٹاپ ہے وہ تحریک انصاف کی ویب سائٹ کھولیں،چیف جسٹس چیف جسٹس کی پی ٹی آئی کی ویب سائٹ پر کاغذاتِ نامزدگی چیک کرنے کی ہدایت جب الیکشن ہو گیا تو کاغذات نامزدگی ہٹا دیئے گئے،وکیل علی ظفر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ دیکھیں ہمارے تو انتخابات نہیں ہوتے،چیف جسٹس ہماری ویب سائٹ پر اگر ہم نوکری کا اشتہار دیتے ہیں تو موجود ہو گا، چیف جسٹس آپ کا الیکشن شیڈول سر آنکھوں پر اس کی تعمیل دکھا دیں،چیف جسٹس کا علی ظفر سے مکالمہ آپ کی پارٹی کا تو نعرہ ہی یہ ہے کہ لوگوں کو بااختیار بنانا ہے جو نظر نہیں آ رہا،جسٹس مسرت ہلالی ہم نے جو بھی غلطیاں کی اس کیلئے 20 دن کا ٹائم دیا گیا،وکیل پی ٹی آئی علی ظفر ساڑھے تین سال پہلے کی بات ہے الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کروائیں ،چیف جسٹس آپ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ کورونا ہے ایک سال کا ٹائم دیا گیا،چیف جسٹس الیکشن کمیشن نے تو بہادری د کھائی کہ حکومت میں نوٹس دیا،چیف جسٹس صرف ہمیں نہیں الیکشن کمیشن نے سب کو نوٹس بھیجا،بیرسٹر علی ظفر جو شیڈول پی ٹی آئی نے دیا وہ عملی طور پر ممکن نہیں لگ رہا، جسٹس محمد علی مظہر اگر مرضی سے فیصلے کرنے ہیں تو میں تسلیم نہیں کر سکتا، جسٹس محمد علی مظہر سب سیاسی جماعتوں کیساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے، جسٹس محمد علی مظہر الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کسی اور پارٹی کے انتخابات پر اعتراض نہیں آیا، جسٹس محمد علی مظہر پارٹی الیکشن شیڈیول پر اعتراض کا جواب دوں گا،وکیل علی ظفر جج نے اعتراض نہیں کیا سوال کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی پارٹی انتخابات کا شیڈیول پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، وکیل علی ظفر پارٹی الیکشن شیڈول پر اعتراض کا جواب دوں گا،وکیل علی ظفر کاغذات نامزدگی کی فیس کتنی تھی؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کاغذات نامزدگی کی فیس 50 ہزار روپے رکھی تھی ،علی ظفر 50ہزارروپے بینک میں جمع کیے یا کیش میں لیے؟ چیف جسٹس 50ہزارروپے کیش میں لیے ، و کیل پی ٹی آئی علی ظفر کدھر ہیں وہ پیسے، سیاسی جماعت کیش میں کیسے لے رہی ہے؟ چیف جسٹس پیسے تو اکاؤنٹ میں دینا ہوں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کچھ تو کاغذ کا ٹکڑا دکھا دیں، اُس نے بینک ڈیپازٹ کر دی، چیف جسٹس پارٹی الیکشن شیڈول پر اعتراض کا جواب دوں گا،وکیل علی ظفر کسی سیاسی جماعت کا سرٹیفکیٹ یہ عکاسی کرتا ہے الیکشن ہوئے، چیف جسٹس آپ کی پارٹی انٹرا پارٹی الیکشن سے کیوں گھبرا رہی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی الیکشن ایکٹ آج نہیں بنا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی آپ ہمیں ایک دستاویز تک نہیں دکھا پا رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی یہ جمہوریت کے برعکس نہیں کہ 4 لوگوں نے بیٹھ کر پوری پارٹی بانٹ لی،چیف جسٹس تمہارا یہ پینل میرا یہ پینل، پتہ نہیں آپ کلب کے ممبر ہیں کہ نہیں،چیف جسٹس کچھ کلبز میں ہوتا ہے جیسے جمخانہ، علی ظفر کا جواب چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی مُسکرا دیئے مجموعی طور پر 91لوگ جیتے ہیں، وکیل پی ٹی آئی علی ظفر آپ نے تو صرف ایک پینل کا دستاویز لگایا، جسٹس محمد علی مظہر کیا بغیر پینل الیکشن نہیں ہو سکتا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لگتا ہے آپ کی پارٹی دستاویزات کے معاملے میں کمزور ہے،جسٹس مسرت ہلالی ہم جو مانگتے ہیں و ہ آپ کے پاس نہیں ہوتا، جسٹس مسرت ہلالی آپ نئے چہروں کی بات کہہ رہے ہیں، 2009 سال سے پارٹی میں ہوں، نیاز اللہ نیازی ہم آپ سے بات نہیں کر رہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا نیازاللہ نیازی سے مکالمہ آپ سے نہیں پوچھ رہے، یا تو علی ظفر کو کہیں کہ وہ آپ کے وکیل نہیں ہیں، چیف جسٹس آپ تسلی رکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نیازاللہ نیازی سے مکالمہ 3سال آپ کے سامنے پیش ہوا، نیاز اللہ نیازی کا چیف جسٹس سے مکالمہ یہ باتیں نہ کریں نئے چہرے کیسے آئے،آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، نیاز اللہ نیازی میرا بیٹا آپ کے پاس لاء کلرک کا انٹرویو دینے آیا، نیاز اللہ نیازی آپ نے اس سے پی ٹی آئی کے سوالات پوچھے، نیاز اللہ نیازی میں تین سال تک آپ کے سامنے پیش ہوتا رہا، نیاز اللہ نیازی مجھے علم ہے میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے، نیاز اللہ نیازی کیا ہم انہیں نوٹس جاری کریں، چیف جسٹس کا علی ظفر سے مکالمہ وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کی جانب سےچیف جسٹس سے معذرت ہم تو سوال سمجھنے کیلئے پوچھتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اگر ایسا رویہ رکھنا ہے تو ہم کیس ہی نہیں سنتے، چیف جسٹس براہ راست نشریات چل رہی ہے، الزام لگایا گیا، چیف جسٹس نیاز اللہ نیازی کا بیٹا تو میرے پاس کبھی انٹرویو دینے کیلئے ہی نہیں آیا، چیف جسٹس یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، ہم اٹھ جاتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نیازاللہ نیازی کے بار بار بولنے پربرہم پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن میں دوسرا مخالفت میں کوئی پینل نہیں آیا، علی ظفر