سپریم کورٹ نے ذوالفقارعلی بھٹو صدارتی ریفرنس پررائےسنادی
سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف ٹرائل غیر
آئینی قراردے دیا
ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کا
ٹرائل بھی بنیادی حقوق کے خلاف قرار
ذوالفقارعلی بھٹو صدارتی ریفرنس پر متفقہ رائے دی
گئی سپریم کورٹ کے مطابق
ہم حلف کے پابند ہیں کہ قانون کے
مطابق فیصلہ کریں ،
تاریخ
کے کچھ فیصلے ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ
صورتحال سامنے آئی ،
ایڈوائزری
دائرہ اختیار کے تحت صدارتی ریفرنس پر
رائے دے سکتے ہیں
ججز بلا تفریق فیصلہ کرتے ہیں ،عدلیہ میں خود احتسابی ہونی چاہیے،
عدلیہ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کیے بنا آگے نہیں بڑھ سکتی،
صدارتی ریفرنس کسی اور حکومت نے واپس نہیں لیا،
صدارتی ریفرنس میں 5 سوالات کیے
گئے تھے،
لاہورہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں ٹرائل بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھا،
ذوالفقار علی بھٹو کا لاہور ہائیکورٹ میں ٹرائل فوجی آمر ضیاالحق کے دور
میں ہوا،
صدر مملکت نے ریفرنس بھیجا جس کے بعد حکومت نے واپس نہیں لیا،
یہ معاملہ مفاد عامہ کا ہے،تفصیلی
رائے بعد میں دی جائے گی،
ذوالفقار بھٹو کی سزا تبدیل کرنے کا کوئی طریقہ قانون اور آئین میں نہیں،
سوال 3 اور 4 پر ایک ہی رائے ہے،
لاہور ہائیکورٹ میں ٹرائل اور سپریم کورٹ میں اپیل
میں بنیادی حقوق کو مدنظر نہیں رکھا گیا،
ٹرائل میں شفافیت کو سامنے نہیں
رکھا گیا،
لاہور ہائیکورٹ کا ٹرائل بھی بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھا،
دوسرا سوال بغیر رائے دیئے واپس
بھیج دیا،
بھٹو کو آئین کے مطابق شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا،
دوسرے سوال میں قانونی سوال نہیں اٹھایا گیا،
سپریم
کورٹ دوبارہ شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتی،
شواہد کا جائزہ لینے کےلیے تفصیلات جاری کریں
گے،
ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف چلایا گیا ٹرائل آئین کے مطابق نہیں تھا،
ججز قانون کے مطابق ہر شخص کیساتھ یکساں انصاف کے پابند ہیں،
ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کیلئے کوشاں ہیں،
کسی حکومت نے پیپلزپارٹی حکومت کا بھیجا گیا ریفرنس واپس نہیں لیا،
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل شفاف نہیں تھا،
ذوالفقار علی بھٹو کی سزا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں
تھی،
ریفرنس میں دوسرا سوال واضح نہیں اس لیے رائے نہیں دے سکتے،
ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کا فیصلہ تبدیل کرنے
کا کوئی قانونی طریقہ کار نہیں،
چوتھا سوال سزا کا اسلامی اصولوں کے مطابق جائزہ
لینے کا تھا،
ریفرنس
میں مقدمہ کے شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتے،
اسلامی اصولوں
سے متعلق کسی فریق نے معاونت نہیں کی،
اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلہ ہونے یا نہ ہونے پر رائے نہیں دے سکتے،