ایم اے جناح روڈ پر واقع ریڈیو
پاکستان کراچی کی پرانی عمارت نے کئی مشہور آوازوں اور فنکاروں کو جنم دیا۔ آج
عمارت میں سناٹے کا راج ہے مگر یہ سناٹا جلد چھٹنے کی امید بڑھ گئی ہے۔ انتظامیہ
نے سوک سینٹر کی عمارت کے شعبہ جات کو پرانی عمارت میں منتقل کرنےکا فیصلہ کیا
ہے۔
ایم اے جناح روڈ پر قائم ریڈیو پاکستان کی تاریخ عمارت اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہاں معروف فنکار و صداکار بیٹھک لگایا کرتے تھے۔
آج عمارت کی ایک بیرک میں ریڈیو پبلیکشن
آہنگ کا دفتر تو آباد ہے۔ مگر چھوٹے چھوٹے دو گنبدوں والی مرکزی عمارت کو ریڈیو
پاکستان کی انتظامیہ کی جانب سے سیل کیا گیا ہے۔
اس عمارت کا کنٹرول 8 سال بعد رینجرز نے ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کو منتقل کیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق سوک سینٹر پر
موجود ریڈیو پاکستان کے مختلف شعبہ جات کی مرحلہ وار منتقلی پر غور کیا جارہا ہے۔
جس کے بعد یہ عمارت ایک بار پھر سازوں اور آوازوں سے گونج اٹھے گی ۔
قیام پاکستان کے ایک برس بعد 1948 میں
اس عمارت کو باقاعدہ ریڈیو اسٹیشن کی عمارت کا درجہ دیا گیا تھا۔ پاکستان کے پہلے
وزیراعظم مرحوم لیاقت علی خان بھی یہاں سے تقریر کرچکے ہیں۔