محبت کی کہانی ،طبقاتی فرق،سوچ نظریات مختلف، یہ کہانی نئی نہیں۔زندگی میں محبت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔پھر شاید یہی وجہ ہے کسی کوپانے کی آرزو، اس سے ملنا کی تمنا ، بےقرار رہنا ، راتوں کا جاگنا ، دن بھر اسے سوچنا ہم سب کو اچھا لگتاہے اس وجہ سے سب کو یہ اپنی کہانی لگتی ہے۔
محبت کی
کہانی میں رکاوٹ طبقاتی ، مذہبی ہو، لسانی ہو ، ثقافتی ہو کسی طور پر بھی یہ ہی اس
کی خوبصورت اور اس کہانی کی اٹھان کا سبب یاموجب بنتی ہے۔
عشق
مرشد کی منظر کشی کا سہرا ڈائریکٹر کو جاتاہے اس کا کوئی بھی سین اٹھا کر دیکھیں
بہترین فریمنگ کی خوبصورتی نظر آئےگی۔
لکھنے
والے کا کمال یہ ہے کہ ڈرامے میں سادہ چھوٹے جملےمگر حقیقت سے تعلق رکھنے والے ہیں۔
جس سے کہانی میں مزید دلچسپی بڑھتی جاتی ہے ۔ پھر کاسٹ کا انتخاب بھی بہت خوبصورتی
کے ساتھ کیا گیا جو کردار اس میں رکھے گئے وہ تمام اس کی لوازمات کو پورا کرتے دیکھائی
دیتے ہیں۔
موسیقی
کی کمپوزیشن ، شاعری ، ڈرامے کو چارچاند لگا دیتےہیں ، گھر دفتر، گلی محلہ ہر جگہ
ڈرامے کے چرچے ہیں۔
کمال یہ
ہے کہ اس میں سندھی فنکار کے جملے بولنےکا انداز بھی سب کو بہا گیا ہے بلکہ اب لوگ
اپنی نجی زندگی میں ان جملوں کا استعمال کرتے ہیں۔
ڈرامے کی کہانی ، سیاست ، سماج، طبقاتی فرق ، اصول، یادیں ، ہمارا سسٹم اور سب کچھ اس میں شامل کیا گیا ۔
فاروق
رند نے اپنے اندر کی ساری خوبصورتی اس ڈرامے میں شامل کردی ہے جسے دیکھ کر انکی جمالیات حس کا بخوبی اندازہ ہوتاہے
،آج کے اس نفسانفسی کے دور میں سب کو ہی عشق مرشد کا انتظار بے تابی سے رہتاہے، مومل
پروڈکشن کے بہترین ڈراموں میں یہ ایک اور اضافہ ہے۔آگے کہانی کو دیکھ کر ہی اندازہ
کیا جاسکے گا کہ عشق مرشد بنتاہے یا مرید آنے والی قسطوں میں اس کا اندازہ لگایا
جاسکیں گا۔