شاعری عکسں ماحول بھی ہے اور شاعری رقص جذبات بھی ۔

عمران عمران

شاعری  عکسں ماحول  بھی ہے اور شاعری رقص  جذبات بھی ۔

ساکنان شہر قائد کے تحت 29 واں سالانہ عالمی مشاعرہ کا ایکسپو سینٹر کراچی میں انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے میں نظموں اور غزلوں کی اس عالمی محفل میں ملکی اورغیرملکی شعرااکرام نے ادب کی خدمت میں شعرپیش کرکےشرکاءکی دادوصول کی۔ مشاعرے کی  نظامت عنبرین حسیب عنبر ، وجیہ ثانی ، آغا شیرازی نے کی مشاعرے سےدنیا بھر میں کراچی کا خوبصورت چہرہ جلوہ گرہ ہوا۔ 

غزل میں صرف بندش و الفاظ ہی نہیں کافی
جگر کا کچھ خون بھی چاہئے اثر کے لئے

شاعری  عکسں ماحول  بھی ہے اور شاعری رقص  جذبات بھی ۔ بات ہو محبوب کی ادائوں کی ، یا اس کے ہجر وفراق کی ، الفاظ کو احساس کی لڑی میں پرو کے اپنے جذبات بیان کرنا ہی خوبصورت شاعر کاخاصہ ہے۔


کراچی ایک مرتبہ پھر شعر و سخن کی عالمی محفل کا میزبان۔ ملک کے معتبر اور مایہ ناز شعرا کے علاوہ، غیر ملکی شعرا بھی مہمان بنے۔ بات ہے 29 ویں عالمی مشاعرے کی جس کا انعقاد ایکسپو سینٹر کراچی میں ہوا۔


 اہل ادب کے  قدردانوں نے نظموں اور غزلوں سے سجی اس محفل میں شرکت کی اور اپنے پسندیدہ شعرا کا کلام سنا۔ رہیش ریڈی، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، انور شعور، عباس تابش، رحمان فارس سمیت ممالکی اورغیرملکی شعرا نے حاضرین کی فرمائش پرکلام پیش کیا۔


وفاقی وزیر بحری امور قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ادب اور شاعری سے خصوصی دلچسپی ہے۔

ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے کہا کراچی کی مختلف شناخت میں ایک شناخت ساکنان شہر کا سالانہ منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ ہے۔


ساکنان شہر قائد منتظم اعلٰی محمود احمد خان نے کہا کہ مشاعرے میں شرکاء کی شرکت اس بات کی دلیل ہے کہ اہلیان کراچی ادب سے محبت رکھنےوالے ہیں ۔

انڈیا کے شاعر رہیش ریڈی نے کہا دنیا بھر میں مشاعرہ پڑھتا ہوں میری خواہش تھی پاکستان میں بھی مشاعرہ پڑھو پاکستان کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہیں۔



مختلف شعراء کرام  کا کہنا تھا کہ  اس طرح کے مشاعرے ہوتے رہنا چاہیے  تاکہ لوگ ادب سے وابستہ ہوں۔


شہریوں کا کہنا تھا ہم گھر و شہر کے مسئلے مسائل بھلا کر یہاں پر بہت زیادہ لطف اندوز ہورہے ہیں۔

29 ویں عالمی مشاعرے میں سب نے ملکر قومی پرچم لہرایا اور قومی ترانہ پڑھا رات گئے فضاوں میں اردو کےاشعار کی خوشبو مہکتی رہی حاضرین نے جہاں ہاتھ میں چائے کا کپ تھام کر اشعار سنے تو وہیں کتابیں خریدیں اور من پسند کھانوں سے بھی محظوظ ہوئے۔