خسرہ سے ہونے والی اموات پر غلط میڈیا رپورٹس

عمران عمران

خسرہ سے ہونے والی اموات پر غلط میڈیا رپورٹس


خسرہ سے ہونے والی اموات پر غلط میڈیا رپورٹس


کراچی ۔محکمہ صحت سندھ نے ضلع دادو میں بچوں کی ہلاکت کے دعوے کی میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے۔

دادو میں جنوری 2024 سے اب تک کوئی بچہ خسرہ سے جاں بحق نہیں ہوا ہے۔ 2024 کے دوران دادو میں خسرہ سے 1 موت ہوئی ہے جو سال کے آغاز میں جنوری میں تھی۔

اس معلومات کی تصدیق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی سرویلنس ٹیم اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) دادو نے کی ہے۔


محکمہ صحت مزید بتانا چاہتا ہے کہ کشمور میں خسرہ سے 4 بچوں کے جاں بحق ہونے کی میڈیا رپورٹس بھی غلط ہیں، ضلع میں 4 نہیں بلکہ ایک مشتبہ موت ہوئی ہے۔ 


محکمہ صحت سندھ میں خسرہ کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جھوٹی میڈیا رپورٹس ہمارے عملے کی حوصلہ شکنی کر رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے۔

ہم صحت میں میڈیا کے مثبت کردار کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان سے گزارش کرتے ہیں کہ رپورٹنگ سے پہلے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs) یا دیگر سرکاری ذرائع سے تمام معلومات کی تصدیق کر لیں کیونکہ گزشتہ ہفتے کے دوران متعدد غلط رپورٹس سامنے آئی ہیں۔


کشمور میں خسرہ کی وجہ سے 1 مشتبہ ہلاکت کے جواب میں محکمہ صحت نے پہلے ہی کیس ریسپانس ایکٹیوٹی کا انعقاد کیا ہے جس میں ضلع بھر میں 137 بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے اور یہ سرگرمیاں دادو اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی چلائی جا رہی ہیں۔ 


اس کے ساتھ ساتھ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے اور صحت سے متعلق معاملات میں عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کے لئے قابل اعتماد ذرائع سے درست اور مصدقہ معلومات پر انحصار کرنا ضروری ہے۔