وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں پروفیسر حشمت لودی ڈویلپمنٹ سینٹر کا افتتاح کیا
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کو سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں پروفیسر حشمت لودی ڈویلپمنٹ سینٹر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ایس ایم آئی یو کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی، این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودی، ان کے اہل خانہ اور چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اس سینٹر کا دورہ کیا جو کہ ایس ایم آئی یو نے ایچ ای سی کے تعاون سے ملک کے ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر حشمت اللہ لودی کے نام سے طلباء کی ترقی کے لیے قائم کیا ہے۔
بعدازاں سید مراد علی شاہ نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے سر شاہنواز بھٹو آڈیٹوریم میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر حشمت اللہ لودی کو خصوصی طور پر شعبہ تعلیم میں ان کی بے مثال خدمات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر حشمت اللہ لودی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے تعلیم، کھیل اور نشریات کے شعبے میں مختلف عہدوں پر فائز رہتے ہوئے ملک اور صوبہ سندھ کی خدمت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت سندھ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کی عظمت میں اضافہ کرتی رہے گی اور اعلان کیا کہ سندھ حکومت سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں ایک نئی کثیر المنزلہ عمارت تعمیر کرے گی، تاکہ طالب علمون کیلئے کم جگہ ہونے کا مسئلا حل ہوسکے۔ انہوں نے سندھ ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ وہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کو انڈومنٹ فنڈ کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے سمری تیار کرے تاکہ اس کی تاریخی عمارتوں کو محفوظ کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وہ یہاں سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں آکر اپنے لیے اعزاز محسوس کررہے ہیں، کیونکہ اس علائقے کا یہ پہلا مسلم تعلیمی ادارہ ہے جس کی بنیاد خان بہادر حسن علی آفندی نے رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ مدرستہ الاسلام نے ہزاروں طلباء کو معیاری اور جدید تعلیم فراہم کی ہے یہ وہ ادارہ ہے جہاں سے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، سر شاہنواز بھٹو، سر عبداللہ ہارون اور دیگر عظیم شخصیات نے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔
سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ایس ایم آئی کے قیام کے وقت صرف ہندوؤں اور پارسیوں جیسی دیگر برادریوں کے اسکول تھے لیکن ایس ایم آئی مسلماںوں کا پہلا اسکول تھا جس نے سندھ کے تمام علاقوں کے طلباء کو انگریزی میں جدید تعلیم فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ڈاکٹر مجیب صحرائی نے انہیں ایک عمارت دکھائیں جسے تالپور ہاؤس کہا جاتا ہے، یہ سندھ کے تالپرروں نے 1901 میں اپنے بچوں کے لیے ہاسٹل کے طور پر بنوائی تھی اور یہ وہ نشانیاں تھیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ کے مسلمانوں نے جدید تعلیم کے میدان میں کس طرح ترقی کی۔
سید مراد علی شاہ نے وائس چانسلر ایس ایم آئی یو ڈاکٹر مجیب صحرائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمارے ملک کے لیجنڈ پروفیسر حشمت اللہ لودی کی خدمات کو رکگنائیز کرتے ہوئے یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر کو ان کے نام وقف کر کے ایک قابل تعریف کام کیا ہے۔ اب یہ مرکز مزید حشمت اللہ لودی پیدا کرے گا، جو ملک اور صوبہ سندھ کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ جب دسمبر 2011 میں سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا ایکٹ سندھ اسمبلی سے منظور ہوا تھا، وہ بھی اس اجلاس میں موجود تھے اور انہوں نے بھی سندھ مدرستہ الاسلام کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کے لیے ووٹ دیا تھا۔
ایس ایم آئی یو کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے تقریب میں شرکت کرنے پر وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ، ڈاکٹر سروش لودی، ان کے اہل خانہ اور دیگر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر مجیب صحرائی نے کہا کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات اور اپنے طلباء کو تحقیق اور انٹرپرینیوئرشپ کے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر حشمت لودی ڈویلپمنٹ سنٹر کو وسعت دی جائے گی اور اس میں مزید سہولیات شامل کی جائیں گی۔
ڈاکٹر مجیب صحرائی نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ایس ایم آئی یو کو سپورٹ کرنے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایس ایم آئی یو اپنا اسکول بھی چلاتا ہے لیکن جب انہوں نے 2020 میں ایس ایم آئی یو میں شمولیت اختیار کی تھی تو اس کے لیے کوئی علیحدہ بجٹ مختص نہیں کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس میں پہل کی اور سید مراد علی شاہ نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے ماڈل اسکول کے لیے علیحدہ بجٹ کی منظوری دی۔ اسی طرح یونیورسٹی کے دیگر مسائل بھی وزیراعلیٰ سندھ کی دلچسپی سے حل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم آئی یو میں ان کی وائس چانسلر کی حیثیت سے شمولیت کے وقت صرف 1800 طلباء کا اندراج تھا لیکن گزشتہ چار سالوں کے دوران طلباء کی انرولمنٹ 5500 تک پہنچ گئی ہے۔
ڈاکٹر مجیب صحرائی نے وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی اپنے سٹی کیمپس میں ایک نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتا ہے کیونکہ طلباء کے لیے جگہ کم ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کی کہ ایس ایم آئی یو کو بھی دیگر اداروں کی طرح انڈومنٹ فنڈ کی فہرست میں شامل کیا جائے کیونکہ اس کی اس کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور دیکھ بھال کے کام کی ضرورت ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی سندھ ڈاکٹر طارق رفیع نے کہا کہ ایس ایم آئی یو کے وائس چانسلر نے عظیم ماہر تعلیم پروفیسر حشمت اللہ لودی کے نام سے ایک مرکز قائم کرکے ایک متاثر کن روایت کی بنیاد رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے لیجنڈز کو اس طرح خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے۔ سندھ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے حکومت سندھ کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ حکومت نے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے لیے زیادہ بجٹ مختص کیا ہے اور یہ وزیر اعلیٰ سندھ کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ہوا ہے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج وہ وائس چانسلر نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے ان کے والد پروفیسر حشمت اللہ لودی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یونیورسٹی کے یوتھ ڈولپمنٹ سنٹر کو ان کا نام دیا ہے۔ انہوں نے ڈولپمنٹ سنٹر کے افتتاح کے لیے وقت دینے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر سروش لودی نے کہا کہ پروفیسر حشمت اللہ لودی نے 1950 سے لے کر 37 برسوں تک مختلف حیثیتوں میں اس ادارے کی خدمات انجام دیں تھیں۔ اپنے والد ڈاکٹر سروش لودی کے ساتھ اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد کے بہت قریب رہے ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھا ہے خاص طور پر قائدانہ خصوصیات۔ انہوں نے سابق وفاقی وزیر تعلیم سید غلام مصطفیٰ شاہ کی بھی تعریف کی جنہوں نے اس ادارے میں کام کرتے وقت ان کے والد کا ساتھ دیا تھا۔ ڈاکٹر سروش نے کہا کہ انہوں نے اور ان کے بھائیوں نے بھی اس ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی، اسی لیے وہ اسے اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
آخر میں ڈاکٹر مجیب صحرائی نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ڈاکٹر سروش لودی اور ان کے اہل خانہ اور چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع کو شیلڈز پیش کیں۔