صنعتی طور پر پیدا ہونے والے خطرناک ٹرانس فیٹی ایسڈز (iTFAs) کو خوراک کی سپلائی چین کے تمام ذرائع سے ختم کرے

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

صنعتی طور پر پیدا ہونے والے خطرناک ٹرانس فیٹی ایسڈز (iTFAs) کو خوراک کی سپلائی چین کے تمام ذرائع سے ختم کرے

ملک کی نمایاں سول سوسائٹی کے اداروں کے نمائندوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری پالیسی اقدامات کرتے ہوئے صنعتی طور پر پیدا ہونے والے خطرناک ٹرانس فیٹی ایسڈز (iTFAs) کو خوراک کی سپلائی چین کے تمام ذرائع سے ختم کرے۔ یہ بات سینٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشیٹوز (CPDI) اور پاکستان یوتھ چینج ایڈووکیٹس کے زیر اہتمام پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ میڈیا سیشن کے دوران کہی گئی۔ اس تقریب میں صحافیوں اور میڈیا کے پیشہ ور افراد کو عوامی صحت اور معیشت پر iTFA کی موجودگی کے اثرات کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔


تقریب میں بڑی تعداد میں معروف صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سیشن کے دوران پاکستان کے صحت کے اعدادوشمار، خوراک سے متعلق پالیسیوں میں اہم خلا اور دیگر ممالک سے حاصل کردہ بہترین پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


سی پی ڈی آئی کے پراجیکٹ مینیجر شہزاد اقبال نے شرکا کو بتایا کہ قلبی امراض، ذیابیطس اور فالج پاکستانیوں کے سب سے بڑے قاتل ہیں۔ iTFAکو خوراک سے ختم کرنے کے لیے بہترین عملی پالیسی اپنانے میں ایک دن کی تاخیر بھی مزید لوگوں کی جان لے سکتی ہے جو ہماری خوراک کی سپلائی میں موجود اس خطرناک مادے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے برعکس ایک جامع پالیسی نہ ہونے کے باعث iTFA کے سب سے زیادہ استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔


جزوی طور پر ہائیڈروجن شدہ تیل (PHO) iTFA کے بڑے ذرائع ہیں اور وہ تمام غذائیں جہاں یہ تیل استعمال کیے جاتے ہیں ان میں یہ خطرناک مادے موجود ہوتے ہیں۔ گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹر کے پاکستان کے کنٹری لیڈ منور حسین نے کہا کہ تمام غذائی ذرائع میں iTFA کو کل چربی کا دو فیصد سے زیادہ محدود کرنے کے لیے ایک جامع قانون سازی اور PHO پر پابندی عائد کرنا پاکستان کے لیے اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہو گا۔


حالیہ مطالعات نے ہماری خوراک کے ذرائع میں iTFA اور PHO کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے، جو عام طور پر پراسیسڈ فوڈز میں پائے جاتے ہیں۔ سی پی ڈی آئی کی ماہر ماہنور ساجد نے کہامشاہدے میں آیا ہے کہ زیادہ تر برانڈز جو اپنے پراڈکٹس کو عملی طور پر ٹرانس فیٹ اور PHO فری قرار دیتے ہیں، ان میں بھی یہ مادے زیادہ مقدار میں موجود ہیں اور پاکستان کو PHO سے پاک بنانے کے لیے مضبوط ایڈووکیسی کی ضرورت ہے۔


میڈیا کے نمائندوں نے ملک میں ذیابیطس اور قلبی امراض کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو عوامی صحت کی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے ایسے پالیسی اقدامات کرنے چاہئیں جن میں تمام غذائی ذرائع سے iTFA کو محدود کرنا، PHO پر پابندی لگانا، خوراک کی پیکنگ پر غذائیت کی وارننگ لیبلنگ نافذ کرنا، اور عوامی اداروں سے غیر صحت مند خوراک کو ہٹانا شامل ہیں۔