بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد 22 لاکھ جبکہ 28 لاکھ بچے اسکول سے باہر،،،

ابرار احمد ابرار احمد

بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد 22 لاکھ جبکہ 28 لاکھ بچے اسکول سے باہر،،،


بلوچستان میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر اقدامات کم ہی دکھائی دیتے ہیں،،، تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد 22 لاکھ جبکہ 28 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں،،، 

دنیا جہاں تعلیمی میدان میں ترقی کر کے آئے روز نت نئی ایجاد کی جا رہی ہیں،، وہیں پاکستان کا تعلیمی معیار دنیا سے کہیں پیچھے ہے،،، دوسری جانب بلوچستان کا نظام تعلیم دیگر حصوں سے بھی پیچھے ہے،،، ہزاروں اسکولز غیر فعال ہیں جبکہ 13 ہزار سے زائد سکولز بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں،،، 


بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ یہاں سہولیات کا فقدان بھی ہے،،، محکمہ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 3694 اسکولز غیر فعال ہیں،،، جبکہ 13 ہزار سے زائد اسکولز باونڈری وال اور واش رومز جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،،،، تشویشناک بات یہ ہے کہ بلوچستان میں تقریبا 28 لاکھ بچے اسکول ہی نہیں جاتے،،، 


ملک کے 43 فیصد رقبے پر محیط بلوچستان کے 1843 اسکولز شیلٹرلیس ہیں،،، جبکہ صوبے میں 6995 اسکولز ایسے ہیں جو سنگل ٹیچر پر مشتمل ہیں،،، 

موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ برس ستمبر میں اسکول نہ جانے والے بچوں کے داخلے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے ،،، تاہم اس منصوبے میں حکومت کامیاب ہوگی یا نہیں اسکا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا،،،