کراچی میں پیکا ایکٹ کے خلاف صحافی برادری سراپااحتجاج ہے۔۔۔پی ایف یوجےنےپیکا ایکٹ واپس نہ ہونےپر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینےکابھی عندیہ دےدیا ۔۔۔پریس کلب پر سیاہ پرچم بھی لہرادیاگیا ۔
کراچی پریس کلب کےباہرپیکا ایکٹ کیخلاف پی ایف یوجےکی کال پر صحافی برادری نے احتجاج کیا۔
مقررین نےکہاکہ اگرپیکاایکٹ واپس نہیں لیا گیا تو اسلام آباد کی جانب مارچ ہوگاہوگاl
ایکٹ واپس نہ ہونےکی صورت میں قومی اسمبلی کے سامنے دھرنابھی دیاجائےگا۔۔۔
سینیئر صحافی مظہر عباس کاکہناتھاکہ کالا قانون پہلی باردوہزارسولہ میں لایا گیا۔۔۔
میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے نام پر پابندی لگائی جا رہی ہےجوناقابل قبول ہے۔۔۔
مظہر عباس،سینئر صحافی ۔۔۔ دیکھیے میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا معاملہ میڈیا کا اپنا ہے کیا ہم پارلیمنٹ کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں کیا ہم عدلیہ کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں کیا ہم دوسرے اداروں کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں ہم صرف اپنے ادارے کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں لہذا ہمارے ادارے میں ریگولیٹ کرنے کے نام پر جو ریسٹرکشن لگائی جا رہی ہے جو پابندی لگائی جا رہی ہے وہ ناقابل قبول ہے ۔
پیکاایکٹ کیخلاف احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یوجے کےرہنمالالہ اسدپٹھان نےکہاکہ پورےپاکستان میں صحافی برادری سراپااحتجاج ہے حکومت اس ایکٹ کوواپس لے۔
لالہ اسدپٹھان،رہنماپی ایف یو جے ۔۔۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کالے قانون کو فل الفور حکومت وقت واپس لے کیونکہ پورے پاکستان کے میڈیا انڈسٹری میں اس وقت شدید قسم کےغم اور غصے کی لہر ہے اور اگر قانون واپس نہ لیا گیا تو پی ایف یو جے کے قیادت آئندہ چند روز میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرے گی
صحافی رہنماء کاکہناتھاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت آج یوم سیاہ منایا جارہا ہے۔۔۔مظاہرین نےپریس کلب پرسیاہ پرچم بھی لہرایا۔۔۔