کراچی میں عدالتوں میں سہولتوں کا فقدان اور سیکیورٹی مسائل کا معاملہ۔عدالت نے فریقین کو فوکل پرسنز نامزد کرنے کے لئے مہلت دے دی۔
سندھ ہائی کورٹ آئینی بنیچ میں کیس کی سماعت ہوئی۔عدالتی حکم کے باوجود آئی جی سندھ،میئر کراچی،ہائی کورٹ بار اور کراچی بار نے فوکل پرسنز نامزد نہیں کئے۔جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیئے اب ہم آئی جی کو کیا کہیں،، جب وکلا کے اپنے ہی نمائندے نامزد نہیں ہوسکے ۔ وکیل نے بتایا کراچی بار اور ہائی کورٹ کے منتخب نمائندے کینالوں کے سلسلے میں دھرنے پر گئے ہوئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ایک چھوٹا سا معاملہ ہے،،، فون پر بات کرلیں، آئندہ سماعت سے پہلے مسئلہ حل کرلیں ۔ ہمیں وار فٹنگ پر کام کرنا ہوگا۔ سٹی کورٹ کمپلیکس میں سیکیورٹی سمیت بہت سے مسائل ہیں۔ اس مالی سال میں مسائل کے حل کے لیے شارٹ ٹرم پلاننگ کرلیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئےہمیں مسائل کے حل کے لیے ایک بیچ پر ہونا چاہئے۔کابینہ اور اے ڈی پی میں بھی اس مسئلے کو اٹھانا چاہیے۔عدالت نے فریقین کو فوکل پرسنز نامزد کرنے کےلیے مہلت دیتے ہوئے سماعٹ انتیس اپریل تک ملتوی کردی۔