سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں پائیدار کمپیوٹنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے موضوع پر دور روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز
کراچی:
سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں بدھ 21 مئی 2025 سے "پائیدار کمپیوٹنگ اینڈ اے آئی: شیپنگ دی فیوچر آف انڈسٹری اینڈ سوسائٹی" کے موضوع پر دو روزہ چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوا۔ چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (سندھ ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع اور سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے یونیورسٹی کے شاہنواز بھٹو آڈیٹوریم کانفرنس کا افتتاح کیا۔ متذکرہ کانفرنس کا انعقاد سندھ ایچ ای سی کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق رفیع نے کہا کہ ایس ایم آئی یو کا دورہ کرنا ان کے لیے ہمیشہ اعزاز کی بات رہا ہے کیونکہ یہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر عظیم رہنماؤں کی مادر علمی ہے۔ بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر ایس ایم آئی یو کی تعریف کرتے ہوئے چیئرمین سندھ ایچ ای سی نے کہا کہ ایس ایم آئی یو کے وائس چانسلر کا ان کانفرنسوں کے انعقاد کے پیچھے کلیدی کردار ہے اور سندھ ایچ ای سی ہمیشہ ایس ایم آئی یو کی ترقی اور اس کی سرگرمیوں میں تعاون کرتا رہا ہے۔
کانفرنس کا تذکرہ کرتے ہوئے چیئرمین سندھ ایچ ای سی نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی یونیورسٹیوں میں ریسرچ کلچر کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے زندگی کو بہت تیزی سے بدل دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مستقبل انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے خاص طور پر مصنوعی ذہانت کا۔ اس طرح ہمیں اپنے طلباء، اساتذہ اور دیگر ملازمین کو اس سے آراستہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی گزشتہ 30 سالوں سے ہو رہی ہے، اس لیے نوجوان نسل کو اس سے واقف ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ بھارتی جارحیت کے دوران ہم نے اس میں ٹیکنالوجی کا استعمال دیکھا اور پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی تکنیکی صلاحیت رکھتا ہے۔ چیئرمین سندھ ایچ ای سی نے کہا کہ یہ کوئی روایتی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ ایک سائبر وار تھی، کوئی بھی ادارہ اپنی جگہ نہیں بڑھا، ہر کوئی اپنی حدود میں رہا لیکن ٹیکنالوجی تھی جس نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تبدیلی کو نہیں روک سکتے، اس لیے یہ طلباء، اساتذہ اور وائس چانسلر کے لیے بھی چئلینجنگ دور ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت پر توجہ دے کر پاکستان کو ترقی دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے سندھ میں اعلیٰ تعلیم کو سپورٹ کرنے اور دیگر صوبوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کیے گئے بجٹ سے زیادہ بجٹ فراہم کرنے پر سندھ حکومت کی تعریف کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ کی یونیورسٹیوں کی اعلیٰ تعلیم اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے بے حد خواہشمند ہیں۔
سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے چیئرمین سندھ ایچ ای سی، قومی اور بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز اور کانفرنس میں شرکت کرنے والے دیگر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران ایس ایم آئی یو نے 12 بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد کیا ہے اور اس کا سہرا ایس ایم آئی یو کے ڈینز، فیکلٹی اور دیگر عملے کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سندھ مدرستہ الاسلام کی عمر 140 سال ہے لیکن ایس ایم آئی یونیورسٹی صرف 13 سال پرانی ہے اس کے باوجود اس نے تحقیق پر توجہ دی ہے اور اس وقت یہ دس ریسرچ جرنلز شائع کر رہی ہے۔
AI پر بات کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ AI خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے مواقع کے مقابلے میں بہت سے چیلنجز لے کر آیا ہے۔ اس لیے ہمیں ان چیلنجز کو سمجھنا ہوگا اور اس کے مطابق عمل کرنا ہوگا تاکہ ہم صحیح سمت میں آگے بڑھ سکیں۔
ان کا خیال تھا کہ اے آئی واقعی ہمارے لیے چیلنجنگ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب آئی ٹی کمیونٹی، آئی ٹی محققین، AI انجینئرز، AI پروگرامرز اور سافٹ ویئر کے ماہرین کو اس نئے رجحان کی طرف دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ AI سے پہلے ہم I.T پر بھروسہ کر رہے تھے۔ اور اس سے حل تلاش کررہے تھے، لیکن اب AI بہت سارے فائدے لے کر آیا ہے اور بہت سارے چیلنجز بھی، لیکن چیلنجز فوائد سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کانفرنسوں سے ٹیکنالوجی کی نئی حقیقتوں اور معاشرے پر ان کے اثرات کو سمجھنے میں فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شاہ لطیف اور مرزا غالب کو بھی AI کے ذریعے سمجھنا ہے۔
ڈاکٹر طارق رحیم سومرو، ریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ نے کہا کہ AI کے غلط استعمال کو محدود کرنے کے لیے عالمی معاہدوں کی مدد کی جانی چاہیے خاص طور پر UNESCO یا UNAI Initiatives کے ذریعے۔ نیز، انہوں نے کہا کہ AI کی ترقی اور تعیناتی کی نگرانی کے لیے اندرونی نگرانی کے ادارے قائم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ AI کا استعمال ان علاقوں میں محدود ہونا چاہیے جو سیاسی مہمات یا حساس رپورٹنگ والے ہیں۔
افتتاحی سیشن سے پروفیسر معظم علی خان خٹک، ڈائریکٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور ڈاکٹر طارق محمود، آئی بی اے کراچی نے خطاب کیا اور کینیڈین اسکالر پروفیسر ڈاکٹر مارٹن مائر نے آن لائین خطاب کیا۔ قبل ازیں ڈاکٹر زاہد علی چنڑ نے استقبالیہ خطاب کیا۔ اسسٹنٹ پروفیسر وفا منصور برڑو، اور لیکچرار بختاور داؤد پوتہ نے کانفرنس کی کارروائی چلائی۔