انڈس واٹر ٹریٹی پر پالیسی راؤنڈ ٹیبل؛ بھارت کی یکطرفہ معطلی پر ماہرین کی تشویش
کراچی انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کراچی میں انڈس واٹر ٹریٹی پر ایک اہم پالیسی راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد کیا گیا، جس میں بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور اس کے اثرات پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا۔ یہ تقریب IBA کے سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ کے زیر اہتمام سٹی کیمپس میں منعقد ہوئی، جس کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعے کو سائنسی، قانونی اور سفارتی زاویوں سے سمجھنا اور اس ضمن میں پالیسی تجاویز مرتب کرنا تھا۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آبی قانون، بین الاقوامی قوانین اور سرحدی آبی سفارت کاری سے متعلق تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینے کی شدید ضرورت ہے تاکہ ملک ادارہ جاتی سطح پر ان چیلنجز کا موثر جواب دے سکے۔ راؤنڈ ٹیبل میں زور دیا گیا کہ بھارت کی جانب سے پانی "روکنے" جیسے بیانیے عوام کو گمراہ کرتے ہیں کیونکہ تکنیکی سطح پر ایسے اقدامات انفراسٹرکچر کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ ماہرین نے عالمی اداروں بالخصوص ورلڈ بینک کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی جیسے معاہدے اب وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہے۔ طویل المدتی آبی منصوبہ بندی اور نیا انفراسٹرکچر ناگزیر قرار دیا گیا تاکہ مستقبل میں پاکستان پانی کی شدید قلت سے بچ سکے۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین، سفارت کار، قانون دان، صحافی، اور ماحولیاتی ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء میں ڈاکٹر لبنیٰ زبیر (سی بی ایس اے)، محمد احسن لغاری (سندھ واٹر کمیشن)، سید جعفر احمد، حفیظ احمد جمالی، عافیہ سلام، خرم حسین، نصیر میمن، اور دیگر شامل تھے۔
اختتام پر تجویز دی گئی کہ IBA کے سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ کے تحت ایک ورکنگ گروپ قائم کیا جائے جو مستقل بنیادوں پر قومی و علاقائی سطح پر آبی مسائل پر اجلاس منعقد کرے اور ایک فعال مکالمہ کے ذریعے پالیسی تجاویز مرتب کرے-