اسٹیل مل کے پانچ سو سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

عدنان اطہر عدنان اطہر

 اسٹیل مل کے پانچ سو  سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کی درخواست پر  سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا


اسٹیل مل کے پانچ سو  سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کی درخواست پر  سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچ  نے غیر فعال اسٹیل مل میں ملازمین کو مستقل کرنے کی درخواست پر  حیرت کا اظہار کیا۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق اسٹیل مل میں سن دوہزار نو سے پانچ سو  سے زائد ملازمین کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے۔جسٹس عدنان الکریم میمن  نے ریمارکس دیئے اسٹیل  مل دوہزار پندرہ  سے بند ہے،،تو  ملازمین کو کیسے مستقل کیا جائے گا۔ جسٹس کے کے آغا  نے کہا سپریم کورٹ نے معاشی دباؤ کی بنیاد پر ریگولرائز کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر ان ملازمین کو ریگولر کر دیا جائے تو ان کو تنخواہ کون دے گا۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اسٹیل مل دیگر ملازمین کی طرح انہیں ادائیگی کرے گی۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے بند دکان میں کام کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا  درخواست گزار دوہزار تیرہ  میں عارضی ملازمین کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان ملازمین کو مختصر مدت کے لیے عارضی پاس جاری کیے گئے تھے۔