پاکستان کے صوبہ سندھ میں ہندو برادری ایک طویل عرصے سے آباد ہے، جو ثقافتی، مذہبی اور سماجی طور پر اس خطے کا اہم حصہ رہی ہے۔ تاہم، گزشتہ چند برسوں سے خاص طور پر ہندو لڑکیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور بھارت ہجرت کے واقعات نے ایک سنگین انسانی حقوق کے بحران کو جنم دیا ہے۔
اغوا اور جبری مذہب تبدیلی کے واقعات
متعدد رپورٹس کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع، خصوصاً عمرکوٹ، گھوٹکی، تھرپارکر اور کشمور میں ہندو لڑکیوں کے اغوا اور ان کی جبری مذہب تبدیلی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف عمرکوٹ میں ہر ماہ اوسطاً 20 سے 25 لڑکیوں کی جبری شادی اور مذہب تبدیلی کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں
ان کیسز میں اکثر لڑکیوں کی عمریں 13 سے 17 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ ان کے والدین کا دعویٰ ہوتا ہے کہ لڑکیوں کو اغوا کر کے اسلامی درگاہوں میں لے جایا جاتا ہے، جہاں ان کا مذہب تبدیل کروا کر فوری طور پر شادی کر دی جاتی ہے۔ درگاہ بھرچونڈی شریف کا نام ان معاملات میں بارہا سامنے آیا ہے، جہاں مذہب تبدیلی کے بعد کم عمر لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہے۔
ریاستی ردعمل اور قانونی پیچیدگیاں
پاکستانی حکومت نے ان واقعات کا نوٹس لیا ہے۔ 2019 میں وزیر اعظم نے دو ہندو لڑکیوں کے اغوا اور مذہب تبدیلی کے واقعے پر فوری تحقیقات کا حکم دیا تھاتاہم، قانونی پیچیدگیوں اور مذہب تبدیلی کے دعووں کی وجہ سے اکثر کیسز عدالتوں میں الجھ جاتے ہیں۔
عدالتوں میں لڑکیاں اکثر یہ بیان دیتی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا، جبکہ والدین کا مؤقف ہوتا ہے کہ یہ بیانات دباؤ یا خوف کے تحت دیے گئے ہیں سندھ میں 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی ہے، لیکن مذہب تبدیلی کے بعد نکاح کو قانونی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے، جس سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی الجھن کا شکار ہوتے ہیں
پارلیمانی کمیٹی کی تحقیقات
سینیٹ کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے سندھ کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا اور اقلیتی برادری سے ملاقاتیں کیں۔ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر انوار الحق کاکڑ کے مطابق، کئی کیسز میں لڑکیوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا، لیکن انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ معاشرتی دباؤ اور غربت جیسے عوامل بھی ان فیصلوں میں کردار ادا کرتے ہیں
کمیٹی نے تجویز دی کہ ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو مذہب تبدیلی کو منظم انداز میں فروغ دے رہے ہیں، اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے
بھارت ہجرت: ایک بڑھتا ہوا رجحان
ان واقعات کے نتیجے میں کئی ہندو خاندانوں نے بھارت ہجرت کی ہے۔ بھارت میں ان خاندانوں کو پناہ گزین کا درجہ حاصل ہے، لیکن شہریت حاصل کرنا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ بھارت میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے غیرمسلم پناہ گزینوں کو شہریت دینے کی کوشش کی گئی، لیکن اس قانون پر بھی تنقید ہوئی ہے۔
پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، اور ان کے حقوق کا تحفظ آئینی طور پر یقینی بنایا گیا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اور متاثرہ خاندانوں کی گواہیاں اس مؤقف سے مختلف تصویر پیش کرتی ہیں
سندھ میں ہندو لڑکیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور بھارت ہجرت جیسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ پاکستان کے آئینی اور اخلاقی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ:
- مذہب تبدیلی کے عمل کو شفاف اور بالغ افراد تک محدود کیا جائے۔
- کم عمر لڑکیوں کی شادی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
- اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔
- مذہبی اداروں کی نگرانی کی جائے تاکہ وہ کسی بھی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔
یہ مسئلہ صرف اقلیتوں کا نہیں بلکہ ایک قومی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، جس کا حل تمام طبقات کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔؟